حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 474 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 474

حقائق الفرقان ۴۷۴ سُورَةُ الْأَعْرَافِ نفس هر کس کمتر از فرعون نیست لیکن او را عون ما را عون است دوسرے معنے سبت کے ہفتہ کے ہیں۔ یہود کو اس دن شکار کی ممانعت تھی جیسے مسلمانوں میں جمعہ ہے۔ نَبْلُوهُم - مخلصوں اور شریروں کا اظہار کرتے۔ ↓ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۹ مؤرخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰۹ ، ۱۱۰) كَذلِكَ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ - " ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم - صفحه ۳۱۳) حَاضِرَةَ الْبَحْرِ بنی اسرائیل دریا سے نکل کر ہی دوسری جگہ آباد ہوئے ۔ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ۔ ابتلاء تین قسم کے۔ ایک امام بننے کے لئے اذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّه - ٢ - بَلَوْنَاهُمْ بِالْحَسَنَتِ وَالسَّيِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ٣- نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ - تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۵) ربه ابتلاء کئی طرح کے ہوا کرتے ہیں۔ ا۔ راستبازوں اور اولو العزم نبیوں پر بھی ابتلاء آتے ہیں ۔ جیسے فرمایا وَ إِذِ ابْتَلَى إِبْرھم (البقرة: ۱۲۵) ۔ ۲ ۔ بدذاتوں ۔ بے ایمانوں کافروں اور مشرکوں پر بھی ابتلاء آتے ہیں جیسے فرمایا ۔ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (الاعراف: ۱۶۴) ۔ ۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اور گروہ بھی ہے ان پر بھی ابتلاء آتے ہیں جیسے فرمایا۔ وَ بَلَوْنُهُم بِالْحَسَنَتِ وَالسَّيَّاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الاعراف:۱۶۹) ۴۔ اور کبھی ابتلاء ترقی مدارج کے لئے بھی آتے ہیں۔ جیسے فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ ۔۔ الخ (البقرة: ۱۵۷) الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۵) ہے ۔ ہر ایک کا نفس فرعون سے کم سرکش نہیں ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اس کے خدمت گزار تھے اور ہمارا کام ہی مدد کرنا ہے ۔ ۲۔ یوں ہم آزمانے لگے اُن کو اس واسطے کہ بے حکم تھے۔ سے اور جب کہ ابراہیم کو چند باتوں کے بدلہ میں اُس کے رب نے کچھ انعام دینا چاہا۔ ہے اور کچھ نیکوں کے سوائے ہیں اور ہم نے امتحان کیا ان کا سکھ اور دکھ سے تا کہ وہ پلٹ آئیں ۔ ۵ ۔ اور البتہ ہم تمہارا امتحان لیں گے انعام دینے کو کچھ خوف سے اور کچھ بھوکا رکھ کر اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (اور اے پیارے محمد تو خوش خبری سنادے ان صابروں کو ۔