حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 463 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 463

حقائق الفرقان ۴۶۳ سُورَةُ الْأَعْرَافِ معین اس کے رب کا چالیس رات اور موسیٰ نے کہا اپنے بھائی ہارون کو میری قائم مقامی کر میری قوم میں اور کام سنوارنا اور شریر فسادیوں کی راہ نہ چلنا۔ تفسیر - ارْبَعِينَ لَيْلَةً - چالیس کے عدد سے انسان کو ایک خاص منا خاص مناسبت ہے۔ نطفہ چالیس دن میں صورت انسان اختیار کرتا ہے۔ ۴۰ دن کے بعد اس کی ماں تندرست ہوتی ہے۔ چالیس سال پر آدمی کے تمام قومی کمال کو پہنچتے ہیں۔ خدا نے موسیٰ سے فرمایا۔ روحانی برکات کے حصول کے لئے تیس دن ہماری طرف تبتل تام کرو۔ اور اگر دس دن اور رہو تو یہ درجہ اکمل ہے۔ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي ۔ ثابت ہوا کہ جب کوئی بڑا آدمی قوم کا لیڈ ر مرکز سے جدا ہو تو اپنا ایک خلیفہ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۹ مؤرخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰۸) مقرر کر کے جائے۔ ۱۴۴ - وَ لَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَ كَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرُ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَينِي وَلَكِنِ انْظُرُ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ ترينِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا وَ خَرَّ مُوسَى صَعِقًا ۚ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ - ترجمہ ۔ اور جب آیا موسیٰ ہمارے ٹھہرائے ہوئے وقت پر ( وعدہ گاہ میں ) اور اس سے بات کی اس کے رب نے ، موسیٰ نے عرض کی اے میرے رب ! تو مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں ۔ اللہ نے فرمایا تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا لیکن تو دیکھ پہاڑ کی طرف پھر اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو مجھے آگے دیکھ سکے گا تو پھر جب اس کے رب نے اپنی صفاتی جلوہ گری دکھائی پہاڑ پر تو کر دیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑا موسیٰ بے ہوش، پھر جب موسیٰ ہوش میں آیا تو بول پڑا تو بڑا بے عیب پاک ذات ہے رجوع کرتا ہوں تیری طرف اور میں تو سب سے پہلے تجھے ماننے والوں ہی میں ہوں۔ تفسیر ۔ جَعَلَہ دیا۔ صوفیاء نے اس مقام پر بحث کی ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ پہاڑ تو اب بھی برقرار ہے۔ پس وہاں دیدار الہی ہوا۔ علماء کہتے ہیں کہ وہ ایک تجلی ربانی کو نہ برداشت کر سکا۔ اس لئے جب اسْتَقَر مكانه، پورا نہ ہوا۔ تو لَنْ تَرَانِی کیونکر پورا ہوتا۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۹ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه (۱۰۸)