حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 453 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 453

حقائق الفرقان ۴۵۳ سُورَةُ الْأَعْرَافِ قول موجبہ کی ضرورت ہے ۔ قرآن نے حضرت نبی کریم کو حضرت موسیٰ کا مثیل (إِنَّا أَرْسَلْنَا إلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (مزمل:١٢) وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ) (الاحقاف : 11)) فرمایا ہے۔ پس عصا کے سانپ بن جانے کے بار بار ذکر میں حکمت ہے۔ إِنَّ الْإِسْلَامَ لَيَأْ رَزَ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرَزُ الْحَيَّةُ إِلى مُجْرِهَا " یہ اسلام مدینہ طیبہ میں اس طرح جمع ہو گا جس طرح سانپ اپنے ہل میں ۔ پھر مدینہ کے لئے فرمایا ہے۔ مجھے ایک شہر دکھلایا گیا۔ تَاكُلُ الْقُرْی ایک طرف اسلام کو دشمن کے ہلاک کرنے کے لئے سانپ فرمایا ہے۔ دوسری طرف مدینہ کو سانپ کی جگہ۔ پھر ساحر کے ساتھ علیم کا لفظ موسیٰ کے لئے آیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ساحر کہا گیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساحر کی علیم سے تفسیر فرمائی ہے۔ حدیث میں آیا ہے۔ السَّاحِرُ الْمَاهِرُ السِّحْرُ : كُلَّمَا دَقَ وَلَطَفَ مَا خَذُهُ " جس کا لوگ مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ اسے ساحر کہہ دیتے ہیں موسیٰ نے جو کچھ پیش کیا ۔ ۔۔۔ وہ بے عیب تھا۔ پس مخالفین نے جو کچھ پیش کیا اس کے سامنے وہ کچھ بھی نہ تھا۔ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ قَالَ القُوا ۔ انبیاء پہلے حملہ نہیں کرتے ۔ اما أن تلقى ۔ یہ ساحروں کا ادب ہے۔ جس نے انہیں مومن بنایا۔ حضرت صاحب اکثر ہے۔جس فرمایا کرتے تھے الطَّرِيقَةُ كُلُّهَا آدَبٌ۔ دوسرا نکتہ صوفیاء نے یہ لکھا ہے کہ مومن و کافر میں کیا فرق ہے؟ ایک وقت ایسی کمزوری کہ فتح یاب ہو کر پھر بھی مزدوری کے طالب ہیں ۔ انعام بھی نہیں کہا۔ دوسرے وقت یہ حالت کہ اسی فرعون کو ڈانٹ دیا اور اس کی کچھ حقیقت نہ سمجھی۔ اس کی دھمکیوں کی کچھ بھی پرواہ نہ کی ۔ بلکہ مال چھوڑ کر جان کی بھی پرواہ نہ رہی ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۹ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰۷) اے ہم نے تمہاری طرف ویسا ہی رسول بھیجا ہے۔ جو تم پر نگران ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ ے اور بنی اسرائیل کا ایک حکمران شہادت دے چکا۔ سے یقیناً اسلام مدینہ میں سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔ ( یعنی دیگر علاقوں میں اسلام کی حالت خراب ہو جائے گی اور وہ صرف مدینہ تک رہ جائے گا)۔ ۴ ساحر کے معنی ہیں مہارت رکھنے والا ۔ سحر ہر وہ چیز ہے جس کا ماخذ لطیف اور دقیق ہو۔