حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 454 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 454

حقائق الفرقان لد ولد سُورَةُ الْأَعْرَافِ ایک مکذب آریہ کے اس اعتراض کے جواب میں کہ حضرت موسی کی لاٹھی کو خدا نے سانپ بنا دیا ساحروں کے ڈنڈوں کو جو سانپ بن گئے تھے۔ کئی سومن وزن موسی کی لاٹھی سب کو کھا گئی۔ حضرت موسی نے اپنے سانپ کو جو پکڑا پھر لاٹھی کی لاٹھی )۔ آپ نے تحریر فرمایا۔ قرآن کریم میں تو یوں آیا ہے۔ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى (طه: ۶۷ ) ان کی : ۶۷) ان کی رسیاں اور سو نئے قوت متخیلہ کو چلتے معلوم ہوتے تھے۔ اور ایک (جگہ) فرمایا ہے۔ سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَ جَاءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ ۔ (الاعراف: ۱۱۷) اور ان ہتھکنڈے بازوں نے لوگوں کی آنکھوں کو دھوکا دیا اور انہیں ڈرانے کی کوشش کی اور بڑا دھو کہ کیا۔ اب ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ ساحروں کے ڈنڈے اور رسے واقعی سانپ بن گئے تھے۔ خدا کی کتاب صرف یہ کہتی ہے کہ ان کے رشتے اور ڈنڈے ان کے واہموں اور تخیلوں کو چلتے نظر آئے۔ اور ساحروں نے عام لوگوں کی آنکھوں کو دھوکے میں ڈالا اور ڈرانا چاہا اور بڑا دھوکہ کیا۔ یہ نظارہ قانون قدرت اور سائنس کے نزدیک ایسا واقعی اور صاف ہے کہ بڑی تشریح کی بھی ضرورت نہیں ۔۔۔ جس لفظ کا ترجمہ تم نے سانپ بن گئی تھی اور کھا گئی کیا ہے۔ وہ لفظ ہے فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِلُونَ۔ اس میں تَلْقَفُ اور یا فنون کے معنی پر غور کرنی چاہیئے تلقف مجر د ہے۔ قاموس اللغتہ میں ہے ۔ لَقِفَهُ كَسَمِعَ لَقْفًا وَلَقْفَانًا مُحَرَّكَةٌ : تَنَاوَلَهُ بِسُرْعَةٍ اس کا ترجمہ ہوا کسی چیز کو جلدی سے پکڑ لینا ۔ يَأْفِكُونَ بھی مجرد ہے۔ اس کے معنی قاموس اللغۃ میں لکھے ہیں ۔ أَفَكَ كَضَرَبَ وَعَلِمَ افتًا وَآفُوْلًا كَذِبَ - ترجمہ جھوٹ بولا۔ جھوٹی کارروائی کی اور سارے جملہ کا ترجمہ ہے کہ وہ ان کی جھوٹی کارروائی کو جلدی سے پکڑ لیتا یعنی ان کا تانا بانا ادھیڑ دیتا ہے۔ سائنس دانوں اور فلاسفران یورپ کا مذہب اختیار کرو ۔ مگر یاد رکھو تمہیں وہاں سے بھی اختیار کرو۔ رکھو سے دھتکار ہی ملے گی۔ کیونکہ وہاں بھی پہلے مسمریزم نے ان معجزات کی حقانیت کی طرف توجہ دلائی۔ اور