حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 436
حقائق الفرقان ۴۳۶ سُورَةُ الْأَعْرَافِ ♡♡ ۵۵ - إِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشَى اليْلَ النَّهَارِ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ قف مُسَخَّرَتِ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبْرَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ - ترجمہ ۔ بے شک تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا چھ وقت میں پھر وہ مالک ہو گیا تخت کا ۔ وہ چھپا لیتا ہے رات کو دن سے گویا رات دن پیچھے لگے آ رہے ہیں اللہ کے حکم سے شتابی اسے سے اور اسی نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے فرمانبردار ہو رہے ہیں اس کے حکم کے سن رکھو اسی کی خلق ہے اسی کا حکم ہے بڑی بابرکت ہے اللہ کی ذات پاک جو سب جہانوں کو آہستہ آہستہ کمال کی طرف پہنچانے والی ہے۔ تفسير في سِتَّةِ أَيَّامٍ ۔ چھ وقتوں میں ۔ ۱۲ گھنٹے کا دن مراد نہیں ۔ اس کی تفسیر ہمارے حضرت صاحب نے خوب لکھی ہے۔ ہر چیز کی تکمیل چھ مراتب کے طے کرنے کے بعد ہوتی ہے۔ مثلاً انسان پہلے نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ ۔ پھر لحماً پھر كَسَوْنَا الْعِظْمَ لَحْمًا ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا اخر (المومنون : ۱۵)۔ میں نے غور کر کے دیکھا ہے کہ انگریزوں کو شریعت سے تعلق نہ تھا۔ مگر ایم ۔اے تک چھ درجے تکمیل کے لئے رکھے ہیں ۔ زمین کو پہلے درست کرتے ، پانی دیتے ، بیچ ڈالتے ہیں ۔ دو دن میں یہ کام ہوا ہے۔ اور چار دن کے بعد پیچ اُگتا ہے۔ کل چھ دن ہوئے ۔ قرآن کریم میں یوم بہت معنوں میں آیا ہے۔ ایک ان بارہ گھنٹوں سے لے کر سال۔ ہزار سال ۔ پچاس ہزار برس تک کے معنوں میں آیا ہے ۔ مطلق وقت کے معنوں میں بھی جتنے میں وہ واقعہ ہو گیا۔ جیسے یوم حنين - ذَكِرْهُم بِأَيْمِ اللهِ (ابراهيم : ٢) استولی ۔ کے معنے ہیں ٹھیک ۔ یعنی اس کے تخت سلطنت میں کوئی نقص نہیں ۔ پھر تمام کا ئنات لے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ (مرتب) ۲ پھر بنا یا ہڈیوں کو گوشت پھر ہم نے بنایا اس کو ایک دوسری مخلوق کے رنگ میں ۔ سے اور ان کو یاد دلا ان کے دن ۔