حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 435 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 435

حقائق الفرقان لدامه سُورَةُ الْأَعْرَافِ لوگ جو چھوڑ بیٹھے تھے اس کو پہلے سے یوں کہیں گے کہ بے شک ہمارے رب کے رسول سچ بات لائے تھے تو اب کوئی ہمارا حمایتی ہے کہ وہ ہماری حمایت کرے یا ہم پھر پلٹا دئے جائیں تو ہم کام کریں برخلاف اس کے جو ہم کام کر رہے تھے۔ بے شک ان لوگوں نے اپنا نقصان آپ کیا اور وہ ان سے گم ہو گیا جو وہ افترا کیا کرتے تھے۔ تفسیر ۔ يَنظُرُونَ ۔ انتظار کرتے ہیں۔ مگر تَأْوِيله ۔ بہت سے الفاظ کے قرآن کریم میں اور معنے ہیں ۔ مخلوق میں اور معنے ۔ مثلاً کلمہ کا لفظ ہے۔ اس کے معنے کرتے ہیں لفظ وُضِعَ لِمَعْنَى مُفْرَد جو تحمل صدق و کذب نہ ہو۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَ عَدْلًا (الانعام: ۱۱۶) یہاں کلمہ کی صفت عدل فرمائی ہے۔ ۲ الا اصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا لَبِيْ ۔۔ لَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِل اسی طرح قرآن شریف میں علم کے اور معنے ہیں ۔ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر: ۲۹) اور عام طور پر علم موجب کبر ہے۔ اسی طرح تاویل کے معنے لوگ ہیر پھیر کر اپنے مطلب کے مطابق بنا لینے کے کرتے ہیں مگر قرآن کریم میں انجام ۔ حقیقت ۔ اصلیت کے معنی ہیں۔ چنانچہ سورۃ یوسف میں ہے هذَا تَأْوِيلُ روياي - (يوسف : ۱۰۱) اور ایک جگہ آیا ہے وَلَمَّا يَأْتِيهِمْ تَأْوِيلُهُ ایک اور جگہ فرمایا وَ مَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَةَ إِلَّا الله - (آل عمران :(۸) یعنی اس کی حقیقت کو۔ پس یہاں معنے ہیں کہ لوگ چاہتے ہیں ۔ عذابوں کے نتیجے ظاہر ہوں ۔ مگر جس روز انجام ظاہر ہوگا ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ رستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰۵) ۲۳؍ستمبر لے کلمہ ایسا لفظ ہے جو مفرد معنی کے لئے وضع کیا گیا ہو ۔ ۲ تیرے رب کی بات پوری ہے سچائی اور انصاف میں ۔ سنو۔ سب سے سچی بات لبید نے کہی ہے۔ سنو ۔ اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔ مٹ جانے والی ہے۔ ے اس کے سوائے نہیں کہ اللہ کے بندوں میں علم والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ۵۔ یہ ہے تعبیر اس میرے پہلے خواب کی ۔ ہے حالانکہ اس کا صحیح مطلب اللہ ہی جانتا ہے۔