حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 413 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 413

حقائق الفرقان ۴۱۳ سُورَةُ الْأَنْعَامِ شے کو حرام کرتے ۔ ان سے پہلوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ یہاں تک کہ ہماری سزا کا مزہ چکھا۔اے نبی ان سے کہہ تمہارے پاس کوئی اس بارہ میں علم ہے تو لاؤ ہمیں نکال کر دکھاؤ ۔ تم توظن کے نیچے لگے ہو اور انکلیں لگا رہے ہو۔ اے نبی کہہ ( جب تمہارے پاس اس اپنے دعوئی کی کہ اللہ کی مرضی سے شرک ہوتا ہے، کوئی دلیل نہیں اور تم جھوٹے نکلے ) تو پورا غلبہ اللہ کو حاصل ہے۔ اگر اس کی مشیت ہوتی تو تمہیں ہدایت دیتا ( نہ یہ کہ شرک کروا تا جیسا تمہارا گمان ہے ) ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۱۹ حاشیہ ) سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللهُ مَا أَشْرَكْنَا ۔ اس اعتراض کے مفصلہ ذیل جواب دیتے ہیں۔ ان اشركوا کہا ۲- كَذلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (الانعام:۳۹) ۳- ذَاقُوا بأسَنَا (الانعام: ۱۴۹) ۴ - فَلَوْ شَاءَ لَهَدْيكُمْ أَجْمَعِينَ (الانعام: ۱۵۰) ۵ - هَلم شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ (الانعام: (۱۵) ۶ - لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ هي (الانعام: ۱۵۱) وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الانعام: ۱۵۱) قُلْ هَلْ عِنْدَكُم مِّنْ عِلْمٍ - یعنی کبھی اللہ تعالیٰ نے اپنی طاقت سے تمہیں کان سے پکڑ کر نیکی سے روکا ہے یا بدی کی طرف چلایا ہے؟ اگر ایسی بات ہے تو ثبوت پیش کرو۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ ستمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۰۳) لَوْ شَاءَ اللهُ مَا أَشْرَکنا ۔ جبری مذہب آج کل بڑھ گیا ہے مگر تعجب ہے ان کی حجت بازی دینی کاموں میں ہوتی ہے۔ مگر دنیا کے کاموں میں ہوشیار۔ دلائل دیتے ہیں۔ 1۔ الَّذِينَ أَشْرَكُوا - ۲- لَوْ شَاء کہنا بھی اللہ کو ناپسند ہے۔ ے اسی طرح جھٹلاتے رہے جو اُن سے پہلے گزرے ۔ ۲۔ انہوں نے ہمارا عذاب ہی چکھا۔ ہاں وہ اگر چاہتا تو تم سب کو ہدایت ہی کر دیتا۔ کے لاؤ تو تمہارے وہ گواہ جو اس بات کی گواہی دیں ۔ ۵ جو یقین نہیں رکھتے مرکز آخرت میں جی اُٹھنے کا۔ 1 وہ اپنے رب کے برابر سمجھتے ہیں ( جھوٹے معبودوں کو ) ۔