حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 412
حقائق الفرقان لد اله سُورَةُ الْأَنْعَامِ استرخاء اور تشنج پیدا ہوتے ہیں ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۹۲) عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمة - جو شرفا میں کھائی جاتی ہے۔ غیر باغ ۔ دلی خواہش نہ ہو۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۵۳) ۱۴۷ - وَ عَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۚ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَهُم بِبَغْيِيهِمْ وَإِنَّا لَصَدِقُونَ ۔ ترجمہ۔ اور یہودیوں پر ہم نے حرام کر دئے تھے سب ناخن والے جانور اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربی ان پر حرام کر دی تھی ہم نے مگر جو لگی ہوئی ہو ان کی پیٹھ پر یا انتڑیوں پر یا جو ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو یہ ہم نے ان کو سزادی تھی ان کی شرارت کے سبب سے اور ہم ہی بڑے سچے ہیں۔ تفسیر ۔ داود جَزَيْتُهُم بِبَغْيِهِمْ - جس طرح بیمار انسان کو بعض پر ہیزیں بتائی جاتی ہیں اور وہ وقتی بات ہوتی ہے۔ اسی طرح سے یہودی قوم پر ایک وقت وہ تمام چیزیں حرام کر دی تھیں جن کے ناخن تھے اور منجملہ ان کے اونٹ بھی تھا اور انکی چر بیاں سوائے پیٹھ کی چربی کے یا جو انتڑیوں سے ملی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی ہوئی ۔ یہ سب منا ہی صرف وقتی تھی ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ ستمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۰۳) ۱۴۹ - سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتَّى ذَاقُوا بَأْسَنَا قُلْ هَلْ عِنْدَكُمُ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ ۔ ترجمہ ۔۔ قریب ہی کہیں گے مشرک کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ حرام کر لیتے کوئی چیز ، اسی طرح جھٹلاتے رہے جو ان سے پہلے گزرے یہاں تک کہ انہوں نے ہمارا عذاب ہی چکھا تو کہہ دے تمہارے پاس کچھ علم ہے تو اسے نکالو ہمارے سامنے تم تو صرف وہم وخیال ہی پر چلتے ہو بس انگلیں ہی دوڑاتے ہو۔ تفسیر۔ مشرک بول اٹھیں گے اگر اللہ چاہتا ہم اور ہمارے باپ دادے نہ تو شرک کرتے اور نہ کسی