حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 411 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 411

حقائق الفرقان الضَّانِ ۔ دُنبے۔ ۴۱۱ سُورَةُ الْأَنْعَامِ تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۴۵۳) ثَنِيَةَ أَزْوَاجٍ مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ - پیدا کئے آٹھ نر اور مادہ بھیڑ میں سے دو اور بکریوں میں سے دو۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اول - صفحہ ۱۳۱) ۱۴۶ - قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَى مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أَهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - ترجمہ ۔۔ تو کہہ دے میں تو نہیں پاتا اس وحی میں جو میری طرف آئی ہے کوئی چیز حرام کھانے والے پر جو اسے کھاوے مگر یہی کہ وہ چیز خود مردہ ہو یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت یہ بے شک نا پاک چیزیں ہیں یا جو فسق ہو جس پر لیا جاوے اللہ کے سوائے کسی دوسرے کا نام ۔ پھر جو کوئی بے بس ہو باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا ہو تو بے شک تیرا رب بڑا عیبوں کا ڈھانپنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔ تفسیر عَلی طَاعِهِ تَطْعَمُة - شرفاء میں جو کھائی جاتی ہیں۔ ان میں کوئی حرام نہیں ۔سوائے دَمًا مَّسْفُوحًا ۔ خون بار یک عضو کو ہلاک کرتا ہے اور اس میں زہر ہوتی ہے۔ لَحْمَ خِنزیر ۔ کیونکہ اس سے شہوت ، غضب، الہیات سے دوری ہوتی ہے۔ خنزیر خور قوموں کو ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ رستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه (۱۰۳) دیکھ لو۔ قرآن مجید میں جس خون کو حرام فرمایا ہے اس کی تفصیل بھی کر دی ہے۔ جیسے فرمایا ہے۔ قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَى مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ تَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مسْفُوحًا ۔ تو کہ میں اپنی وحی میں کسی کھانے والے پر کوئی شے حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ مردار ہو یا گرا ہوا خون ہو۔ آئیز وید کو پڑھو۔ اس میں بھی تو لکھا ہے کہ خون میں اقسام اقسام کی زہریں ہوتی ہیں جو پیشاب کے ذریعہ خارج ہوتی ہیں منجملہ ان کے کار بانک ایسڈ اور ٹومین تو عام مشہور ہیں جن سے فالج یا