حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 403 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 403

حقائق الفرقان لد لله سُورَةُ الْأَنْعَامِ لَا يُؤْمِنُونَ۔ اخلال کن کا ہوتا ہے۔ جن کا سینہ حق بات کے ماننے سے تنگی کرے۔ يَذْكُرُونَ - أَي يَتَذَكَّرُونَ أَمْرِي ! لَهُمْ دَارُ السّلام - احکام النبی کے ماننے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کو دنیا میں ۔ قبر میں ۔ قیامت میں پل صراط میں ۔ جنت میں سلامتی کا گھر ملتا ہے۔ پھر خدا اس مومن کا والی ہو جاتا ہے۔ هُوَ وَلِيُّهُمُ ۔ ایسے مومن پر خواہ کس قدر مصیبتیں آئیں وہ سلامتی سے نکل جاتا ہے۔ وہ ظلمات سے بتدریج نکلتا رہتا ہے۔ کئی قسم کی ظلمتیں ہیں ۔ ا۔ ظلمتِ جہل ۔ ۲ ۔ ظلمت رسم و عادت۔ ظلمت حب (حبكَ الشَّيْئَ يُعْيِي وَيُصِمُّ ( ۴ - ظلمتِ افلاس و دولت ۵ ـ ظلمت مجلس ۔ ۶ ۔ ظلمت شرک ( جس نے عیسائیوں کی عقل دین کے بارے میں باوجود اس درجہ ترقی صنعت و حرفت کے ماردی ہے ) (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰۲) السلام نام ہے اللہ تعالیٰ کا ۔ اسلام کا نتیجہ بہشت ہے۔ بہشت کا نام بھی دار السلام ہے۔ لَهُمْ دَارُ السَّلْمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ - (الانعام : ۱۲۸) اور فرمایا ۔ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ ۚ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبُ - (فاطر : ٣٦) گویا اسلام سکھوں کا موجب ہے اور بہت بڑے سکون کا موجب ہے۔ اسلام میں کبھی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ میں نے اس لفظ کو الٹ پلٹ کے بڑا دیکھا ہے اس کے سارے لفظوں میں خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ سلم کو الٹادیں۔ ملس بن جاتا ہے۔ ملس نرم چیز کو کہتے ہیں۔ مسلمان أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ اور رُحَمَاءُ بَيْنَهُم (الفتح : ۳۰) یعنی آپس میں رحیم کریم ہوتے ہیں۔ اسی لفظ کو اور الٹا دیں تولسم بن جاتا ہے۔ لسم کے معنے یہ ہیں کہ انسان حیاء کے سبب بعض وقت خاموشی اختیار کرے۔ مسل بھی اس کا الٹ بنتا ہے۔ اس کے معنے ہیں پانی دوسری جگہ پہنچا دینا۔ مسلمان کا یہ بھی کام ہے کہ دوسرے کو نفع پہنچائے۔ لے جو میرے احکامات کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ (مرتب) ۲ اُن کے لئے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے نزدیک۔ سے جس نے ہم کو اتارا سدا رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے ۔ نہ ہمیں وہاں کچھ رنج پہنچے گا اور نہ تکان ۔ ہے وہ کافروں پر بہت مؤثر نہیں ہوتے ۔ شرید و غالب ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے متاثر ہوئے ہیں رحیم ہیں ۔