حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 389 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 389

حقائق الفرقان ۳۸۹ سُورَةُ الْأَنْعَامِ ایک عورت مسیح کے پاس آئی ۔ کہا۔ میرے بیٹوں نے تمہارے لئے سب کچھ چھوڑ دیا۔ جب تو بادشاہ بنے۔ ایک کو دائیں اور ایک کو بائیں بٹھا ئیو ۔ کہا یہ تو مولی کے اختیار میں ہے۔ پھر قیامت کے بارے میں کہا اس گھڑی کا علم مجھے نہیں۔ الوہیت کا مدار صفات کاملہ پر ہے اور مسیح میں اس کے اس ن سے علم و قدرت ہی نہیں ۔ (ضمیمہ اخبار بدرقادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ ستمبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۰۰،۹) اس کے کہاں سے بیٹا ہوا۔ اس کا تو کوئی ساتھی نہیں ۔ اس نے سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہ کل چیزوں کو جاننے والا ہے۔ یہی تمہارا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں کل اشیاء کا خالق ہے اس کی سوا عبادت کرو۔ اور وہ سب کا کارساز ہے ۔۔۔ گو یا قرآن کریم کہتا ہے مسیح ابن اللہ کن معنوں پر ہیں ۔ آیا عرفی اور حقیقی معنوں پر مسیح ولد اللہ یا کسی اور معنوں پر ۔ اگر عرفی اور حقیقی معنوں میں ہیں ۔ یہ تو صحیح نہیں کیونکہ اس صورت میں سیدہ مریم علیھا السلام کو خدا کی جوڑو اور اس کا ساتھی مانا ضروری اور لازمی امر ہے۔ اور تمام عیسائی اور سارے عقلاء سیدہ صدیقہ مریم کا اللہ تعالیٰ کا صاحبہ ہونا اعتقاد نہیں رکھتے۔ اگر مجازی معنی ولد اللہ ، ابن اللہ کے لیتے ہو اور حقیقی اور عرفی معنی نہیں لیتے ہو تو مجازی معنی نہایت وسیع ہیں ۔ ولد اللہ کے معنی خدائے مجسم خدا کے ساتھ ذاتا متحد ہستی تجویز کرنا ہرگز ہر گز صحیح نہیں کیونکہ اگر یہ معنی لوگے اور مسیح کو اللہ اور اللہ کا بیٹا کہو گے تو ضرور ہو گا کہ مسیح ذات وصفات میں خدا ہو۔ خدا کے برابر اور صفت معبودیت اور صفت خلق اور علم وغیرہ میں جو انسانی جسم کے لحاظ سے نہیں خدا کے سے صفات رکھتا ہو مگر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں یہ صفات کا ملہ خدا کی طرح موجود نہ تھیں ۔ غور کرو۔ ابطال الوہیت مسیح ۔ تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۷، ۳۸) أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَ لَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ (الانعام : ۱۰۲) یعنی کس طرح ہو سکتا ہے اللہ کا بیٹا جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے۔ یہ ایک دلیل ہے عیسائیوں کے مقابل پر۔ کیونکہ عیسائی مریم کو خدا کی جو رو نہیں مانتے اور بیٹے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نتیجہ ہو دو چیزوں کا۔ ایک اباجی ہوں اور ایک اماں جی ۔ جب تم مریم کو بیوی نہیں مانتے تو بیٹا جو ان دونوں کا نتیجہ ہوتا ہے کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔ جس طرح ایک کیڑا ہوتا ہے جب دوسر اوجود اس کے اثر کو جذب کرنے والا ہو تب مرض پیدا ہو سکتا ہے۔