حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 388 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 388

حقائق الفرقان ۳۸۸ سُورَةُ الْأَنْعَامِ ۱۰۱ - وَ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَ بَنْتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ سُبْحَنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يَصِفُونَ - ترجمہ ۔ ( ظلم تو دیکھو کہ ) انہوں نے ٹھہرا لئے اللہ کے برابر والے، بزرگوں او بزرگوں اور امراء اور جنات کو، حالانکہ ان سب کو اللہ ہی نے پیدا کیا اور ( یہ ظلم بھی دیکھو کہ ) ٹھہرا لئے اللہ کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بے جانے بوجھے ۔ وہ ذات پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ تفسیر وَ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاء - احمق لوگ خدا کو جب چھوڑتے ہیں تو پھر پتھروں کی ۔ پھر ادنی سے ادنی چیزوں کی پرستش شروع کر دیتے ہیں ۔ یورپ امریکہ نے اس خدا کو چھوڑا تو ایک انسان کو خدا ماننے پر مجبور ہوئے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ ستمبر ۱۹۰۹ صفحه ۹۹) ۱۰۲ - بَدِيعُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَ لَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ - ترجمہ۔ وہ عجیب بنانے والا ( یعنی بلا نمونہ اور بلا ماڈہ ) آسمان اور زمین کا ہے اس کا کیونکر بیٹا ہو سکتا ہے حالانکہ اس کی کوئی جو روہی نہیں اور اُسی نے پیدا کیا سب چیزوں کو اور وہی سب چیزوں کو بخوبی جانتا ہے۔ تفسیر ۔ بَدِيعُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ۔ پہلے رکوع میں یہ بات ذکر کی ہے کہ دانہ کو میں کھولتا ہوں۔ گٹھلیوں سے درخت ۔ میت سے حی بناتا ہوں ۔ دانہ سے گٹھلی بڑی۔ پھر آگے جاندار اس سے بھی بڑا۔ پھر اس سے بڑھ کر شمس و قمر ۔ اب اس سے بڑھ کر بنانا ہے آسمان وزمین ۔ باوجود قدرت کے نظارے کرنے کے پھر بھی خدا کا بیٹا ایک انسان کو قرار دیتے ہیں ۔ انجیل کی بات ” جو بات تو نے حکیموں کی نظر سے چھپائی وہ بچوں کو دکھائی صادق آتی ہے۔ انگریز کیسے عقل مند اور پھر اس معاملہ میں کیسے کو دن نکلے ۔ کفارہ اور تثلیث جس پر اڑے ہیں کوئی چیز ہے؟ لَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ ۔ نتیجہ جو ہوتا ہے دو چیزوں کے ملنے سے۔ پس عورت کا ہونا لازمی ٹھہرا۔ تم صاحبہ مانتے نہیں اور بیٹا بناتے ہو۔