حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 387
حقائق الفرقان ۳۸۷ سُورَةُ الْأَنْعَامِ ١٠٠ - وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا تُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاكِبًا وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةً وَ جَنَّتِ مِنْ أَعْنَابِ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهَا وَ غَيْرَ مُتَشَابِهِ أَنْظُرُوا إِلَى ثمَرِةَ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذَلِكُمْ لَايَتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ ترجمہ ۔ وہی اللہ ہے جس نے بادل سے پانی برسایا پھر ہم ہی نے ہر ایک روئیدگی اس کے ذریعہ سے اگائی پھر ہم ہی نے اس کے ذریعہ سے سبزہ اگایا جس سے ہم دانے پیدا کرتے ہیں گھنے اور کھجور کے گا بھے میں سے کچھے جو جھکے پڑتے ہیں اور انگور کے باغ اور زیتون اور ملتے جلتے اور نہ ملتے جلتے۔ دیکھو تو درخت کا پھل جب وہ پھلے اور اس کا پکنا کچھ شک نہیں کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والی قوم کے لئے۔ تفسیر مِنَ السَّمَاء مَاء - جیسے آسمان پر سے پانی اترتا ہے۔ اسی طرح وحی کا نزول بھی ہے۔ ادھر قرآن۔ رسول کریم کی پاک تعلیم ہے۔ اور ادھر دلوں کی سرزمین اس آب حیات کو قبول کرنے کو تیار ہے۔ جیسے مینہ اترتا ہے تو ہر قسم کی روئیدگی اگتی ہے اور ایک نیا لباس عطا ہوتا ہے۔ اسی طرح وحی البہی کے وقت ہر چیز میں نشو و نما آتا ہے۔ اور زمانہ میں ایک تبدیلی پیدا ہونی چاہتی ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ پھر اس پانی سے قسم قسم کے درخت اور طرح طرح کے میوے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح وحی الہی سے ہر قسم کے علم و ہنر و تہذیب میں ترقی ہوتی ہے۔ لیکن جیسا کہ ایک دانہ کے بیجنے کے وقت ایک نادان کہہ سکتا ہے کہ او ہو یہ تو مٹی میں مل گیا۔ اسی طرح اس رسول کی قوم پہلے حقیر و ادنی سی معلوم ہوتی ہے مگر وہ فَالِقُ الْحَبِ وَالنَّوی اسی کو ادنی سے اعلیٰ ۔ بے برکت سے بابرکت۔ ناچیز سے چیز بنا دیتا ہے۔ لوگ خدا کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں مگر میں تو دیکھتا ہوں ۔ اس نے ایک وقت میں ایک بے جان لکڑی سے جو چند پیسوں کی ہو گی خدا کہلانے والوں کا تختہ الٹ دیا (موسیٰ کا عصا) ہمارے حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے۔ کسی کو خوشی ہے کہ میرے پاس مال ہے۔ کسی کو خوشی ہے کہ میری اولاد بہت ہے اور کسی کو خوشی ہے کہ میر اجتھا بہت ہے۔ پر میں خوش ہوں کہ میرا خدا جو ہے وہ قادر مطلق ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۹۹) - وتی ہے کہ میرے پاس مال ہے ۔ ؟