حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 384
حقائق الفرقان ۳۸۴ سُوْرَةُ الْأَنْعَامِ قرآن شریف میں فلق کا لفظ تین طرح پر استعمال ہوا ہے فَالِقُ الْإِصْبَاحَ - فَالِقُ الْحَبِّ وَ النوى - پس خدا فَالِقُ الْإِصْبَاحِ - فَالِقُ الْحَبْ اور فَالِيُّ النَّوی ہے۔ دیکھو رات کے وقت خلقت کیسی ظلمت اور غفلت میں ہوتی ہے بجز موذی جانوروں کے عام طور سے چرند، پرند بھی اس وقت آرام اور ایک طرح کی غفلت میں ہوتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت تاکیدی حکم دیا ہے کہ رات کے وقت گھروں کے دروازے بند کر لیا کرو ۔ کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانک رکھا کر و خصوصا جب اندھیرے کا ابتداء ہو اور بچوں کو ایسے اوقات میں باہر نہ جانے دو۔ کیونکہ وہ وقت شیاطین کے زور کا ہوتا ہے ۔۔۔۔ رات کی ظلمت میں عاشق اور معشوق ، قیدی اور قید کننده، بادشاہ اور فقیر ، ظالم اور مظلوم سب ایک رنگ میں ہوتے ہیں اور سب پر غفلت طاری ہوتی ہے ادھر صبح ہوئی اور جانور بھی پھڑ پھڑانے لگے ۔ مرغے بھی آوازیں دینے لگے بعض خوش الحان آنے والی صبح کی خوشی میں اپنی پیاری راگنیاں گانے لگے۔ غرض انسان، حیوان، چرند، پرند سب پر خود بخو دایک قسم کا اثر ہو جاتا ہے اور جوں جوں روشنی زور پکڑتی جاتی ہے توں توں سب ہوش میں آتے جاتے ہیں ۔ گلی کوچے ، بازار، دوکانیں ، جنگل ، ویرا نے سب جو کہ رات کو بھیانک اور سنسان پڑے تھے ان میں چہل پہل اور رونق شروع ہو جاتی ہے گویا یہ بھی ایک قسم کا قیامت اور حشر کا نظارہ ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَالِقُ الْاِصْباح میں ہوں ۔ حب ۔ گیہوں ، جو ، چاول وغیرہ اناج کے دانوں کو کہتے ہیں۔ دیکھو کسان لوگ بھی کسی طرح سے اپنے گھروں میں سے نکال کر باہر جنگلوں میں اور زمین میں پھینک آتے ہیں۔ وہاں ان کو اندھیرے اور گرمی میں ایک کیڑا لگ جاتا ہے اور دانے کو مٹی کر دیتا ہے اور پھر وہ نشو و نما پا تا پھلتا پھولتا ہے اور کس طرح ایک ایک دانہ کا ہزار در ہزار بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایک گٹک (گٹھلی) کیسی رڈی اور ناکارہ چیز جانی گئی ہے۔ لوگ آم کا رس چوس لیتے ہیں۔ گٹھلی پھینک دیتے ہیں۔ عام طور سے غور کر کے دیکھ لو کہ گٹھلی کو ایک رڈی اور بے فائدہ چیز جانا گیا ہے۔ مختلف پھلوں میں جو چیز کھانے کے قابل ہوتی ہے وہ کھائی جاتی ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں فَالِقُ الْحَب وَ النَّوی ہوں۔ اس چیز کو جسے تم لوگ ایک رڈی سمجھ کر پھینک