حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 377 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 377

حقائق الفرقان ۳۷۷ سُوْرَةُ الْأَنْعَامِ ہو کر، ایک ہی کا بن کر۔ میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔ تفسیر ۔ میں نے اپنا منہ کیا اس کی طرف جس نے بنائے آسمان اور زمین ایک طرف کا ہو کر اور میں نہیں شرک کرنے والا ۔ اس آیت کا افتتاح ( نماز ۔ ناقل ) میں پڑھنا خوب آشکار کرتا ہے کہ اہل اسلام کا باطنی رخ اور قلبی تو جہ کدھر ہے۔ کعبہ حقیقی اور قبلہ تحقیقی انہوں نے کسی چیز کو ٹھہر رکھا ہے۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۲۸۷) اگر قربانی کرتے ہو تو ابراہیمی قربانی کرو۔ زبان سے اِنِّی وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضَ کہتے ہو تو روح بھی اس کے ساتھ متفق ہو۔ اِنَّ صَلَاتِی وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: کہتے ۱۶۳) ہو تو کر کے بھی دکھلاؤ ۔ (الحکم جلد رے نمبر ۱۱ مؤرخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ (۴) - الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مهْتَدُونَ - ترجمہ ۔ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنا ایمان شرک یا نافرمانی سے نہ ملایا تو یہی لوگ ہیں جن کے لئے امن ہے اور وہی راہ پر ہیں۔ تفسیر لَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ۔ اس کے معنے صحابہؓ نے نبی کریم سے پوچھے ہیں کہ أَيُّنَا لَمْ يَظْلَمُ يَا رَسُولَ اللهِ - آپ نے فرمایا کہ ظلم سے مراد شرک ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ ر ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۹۸) ۸۴ - وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَتِ مَنْ تَشَاءُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ - ترجمہ ۔ اور یہ ہماری حجت ہے جو ہم نے ابراہیم کو دی تھی اس کی قوم کے مقابلہ میں ہم بلند کر دیتے اے میری نماز اور عبادت اور میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کو آہستہ آہستہ کمال کی طرف پہنچانے والا ہے۔