حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 375 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 375

حقائق الفرقان ۳۷۵ سُورَةُ الْأَنْعَامِ تفسير - وَهُوَا وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونَ ۔ اور عظیم الشان امر یہ ہے کہ وہ اللہ جس نے پیدا کیا آسمانوں ، بلندیوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ اور جب کہے گا کن تو پھر ہونے والی چیزیں ہو پڑیں گی ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹر ائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۱۹) عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ - غیب جو اب نہیں ۔ شہادت جو موجودہ ہیں۔ - ۷۶،۷۵ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ رستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه (۹۷) وَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ أَذَرَ اتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۚ إِنِّي اريكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَيْلٍ مُّبِينٍ - وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاتِ وَ الْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ۔ - ترجمہ۔ اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے چا آزر سے کہا کیا تو مورتی ، دیویوں کو معبود مانتا ہے اور میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں ۔ اور ہم نے اسی طرح دکھائے ابراہیم کو آسمان اور زمین کے ملک ( وعجائبات و تصرفات ) تا کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔ تفسیر لابيه - اب عام ہے۔ مراد کوئی بزرگ رشتہ دار والا مراد نہیں ۔ کیونکہ ابراہیم نے آخر عمر میں جو دعا کی ہے۔ اس میں آتا ہے رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَی - (نوح: ۲۹) حالانکہ دوسری جگہ وَاغْفِرُ لابي - (الشعراء: ۸۷) کہنے کی ممانعت آئی ہے۔ كذلك - به سبب اسی فرماں برداری اور جوش توحید کے۔ وَلِيَكُونَ ۔ انجام یہ ہوا کہ ہوا یقین کرنے والوں میں سے۔ ایک دفعہ حضرت صاحب سے میں نے پوچھا۔ یقین کی کوئی انتہاء بھی ہے۔ فرمایا۔ جب میں بچہ تھا تب بھی خدا پر میرا ایمان تھا۔ جب جوان تھا تب اور ایمان بڑھا۔ جب کچھ پڑھا۔ تب اور ایمان بڑھا۔ پھر جب الہام ہوا پھر اور ایمان بڑھا ۔ پھر الہاموں کو پورا ہوتے پایا۔ پھر اور ایمان بڑھا ۔ پس یقین کی کوئی حد نہیں اور مراتب یقین کی کوئی حد نہیں ۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحہ ۹۷) اے اے میرے رب ! میری مغفرت کر اور میرے ماں باپ کی ۔ ہے اور میرے چچا کو بخش دے۔