حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 374 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 374

حقائق الفرقان ۳۷۴ سُوْرَةُ الْأَنْعَامِ دیا ہو بہکا دیا ہو شیطانوں نے زمین میں پریشان کر کے۔ اس کے دوست اس کو بلا رہے ہوں سیدھی راہ کی طرف کہ ہمارے پاس چلا آ ۔ تم جواب دو پس ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے اور ہم کو تو حکم ہو چکا ہے کہ ہم ضرور فدائی فرمانبردار رب العالمین کے بن جائیں۔ اور یہ حکم ہوا کہ نماز کو ٹھیک درست رکھو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ اور اسی کا خوف رکھو اور وہی رب العالمین ہے جس کے حضور تم اکٹھے ہو گے۔ تفسیر استهوته - نیچے اتار دیں۔ الشَّيطين - بد معاش ۔ اللہ سے دور ۔ ہلاکت والی روحیں۔ مسافر کو نیچے کھوہ میں اتار دیں تو پھر وہ حیران رہ جاتا ہے۔ جو بدکار ہیں یا بدکاروں کے آشنا۔ ان کو کیا ہدایت مل سکے ۔ بد صحبت سے بچو۔ جہاں تمسخر ہو رہا ہو۔ وہاں کوئی بھلا مانس چلا جائے تو وہ بھی کوئی بات تمسخر میں کر دے گا۔ پس ایسی صحبت ہی میں نہ بیٹھو حدیث میں آیا ہے کہ کسی شخص کے حالات معلوم کرنے ہوں ۔ اس کے دوستوں کو دیکھو۔ اِنَّ الْمَرْءِ عَلَی دِینِ حَبِیبہ مومن کو چاہیے کہ دعا کرے کہ شہر والے مجھ سے محبت کریں پر میں صلحاء سے محبت کروں ۔ أمِرْنَا لِمُسْلِمَ - یہ ہوئی اللہ کے پانے کی راہ بتائی ہے۔ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ۔ اگر کسی کا قصور ہو جائے تو انسان اس کے سامنے نہیں ہوتا پر خدا کے حضور ضرور جانا ہے ۔ أَن تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ فَانْفُذُوا لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بسلطن (الرحمن: ۳۴) (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحہ ۹۷) ۴۔ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَ يَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَ لَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ عَلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ - ترجمہ ۔ وہی تمہارا رب ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو واقعی اور سیچ ۔ اور فوراً جس وقت فرمائے کسی چیز کو کہ ظاہر ہو تو وہ ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس کی بات بالکل سچ ہے اور اسی کی حکومت ہے جس دن پھو کا جائے گا صور ۔ وہی چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے اور وہی بڑا پختہ کار اور بڑا خبر دار ہے۔ ا انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ ۲ کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جا سکو تو نکل بھاگو ۔ نکل ہی نہ سکو گے مگر پروانگی کے ساتھ۔