حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 292 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 292

حقائق الفرقان ۲۹۲ سُورَةُ الْمَائِدَة ابراہیم نے رویا میں دیکھا جب کہ ان کی ۹۹ سال عمر تھی کہ میں بچہ کو قربان کروں ایک ہی بیٹا تھا۔ دوسری طرف اللہ کا وعدہ تھا۔ کبھی مردم شماری کے نیچے تیری قوم نہ آئے گی ۔ ادھر عمر کا یہ حال ہے اور بچہ چلنے کے قابل ایک ہی ہے اسے حکم ہوتا ہے کہ ذبح کر دو۔ رویا کا عام مسئلہ ہے اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو ذبح کرتے ہوئے دیکھے تو اس کی بجائے کوئی بکر اوغیرہ ذبح کردے۔ اسی طرح یہاں لوگوں کو کہا کہ میں بیٹے کو ذبح کرتا ہوں مگر وحی الہی سے حقیقت معلوم ہوئی کہ دنبہ ذبح کرنا چاہیے۔ پس لوگوں کو سمجھایا کہ اے لوگو! تمہارے بزرگوں نے جو کچھ دیکھ کر قربانی انسانی شروع کی اس کی حقیقت بھی یہی ہے کہ آدمی کی قربانی چھوڑ کر جانور کی قربانی کی طرف توجہ کرو۔ اس کی برکت یہ ہوئی کہ ہزاروں بچے ہلاک ہونے سے بچ گئے کیونکہ انہیں ادنیٰ کو اعلیٰ پر قربان کرنے کا سبق پڑھا دیا گیا۔ یہ قربانی کا سلسلہ پرندوں چرندوں درندوں میں بھی پایا جاتا ہے پھر دنیوی سلطنتوں میں ۔۔۔ ادنی محبوبوں کو اعلیٰ محبوبوں پر قربان کرنے کا نظارہ ہر سال دیکھتا ہوں اس لئے ادنی محبت کو اعلیٰ محبت پر قربان کرتا ہوں مثلاً سڑک ہے جہاں درخت بڑھانے کا منشاء ہوتا ہے وہاں نیچے کی شاخوں کو کاٹ دیتے ہیں پھر درخت پر پھول آتا ہے اور وہ درخت متحمل نہیں ہو سکتا تو عمدہ حصے کیلئے ادنی کو کاٹ دیتے ہیں میرے پاس ایک شخص سردہ لایا اور ساتھ ہی شکایت کی کہ اس کا پھل خراب نکلا۔ میں نے کہا کہ قربانی نہیں ہوئی۔ چنانچہ دوسرے سال جب اس نے زیادہ پھلوں اور خراب پودوں کو کاٹ دیا تو اچھا پھل آیا۔ لوگ جسمانی چیزوں کے لئے تو اس قانون پر چلتے ہیں مگر روحانی عالم میں اس کا لحاظ نہیں کرتے۔ اور اصل غرض کو نہیں دیکھتے جو قربانی کرتا ہے اللہ اس پر خاص فضل کرتا ہے۔ اللہ اس کا ولی بن جاتا ہے پھر اسے محبت کا مظہر بناتا ہے پھر اللہ انہیں عبودیت بخشتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جس میں لامحدود ترقیاں ہو سکتی ہیں۔ قربانی کا نظارہ عقلمند انسان کے لئے بہت مفید ہے اپنے اعمال کا مطالعہ کرو اپنے فعلوں میں ، باتوں میں ، خوشیوں میں ، ملنساریوں میں ، اخلاق میں غور کرو کہ ادنی کو اعلیٰ کے لئے ترک کرتے ہو یا نہیں؟ اگر کرتے ہو تو مبارک ہے ہمارا وجود ۔ عیب دار قربانیاں چھوڑ دو۔ تمہاری قربانیوں میں کوئی عیب ہو نہ سینگ کٹے ہوئے۔ نہ کان کٹے ہوئے۔ قربانی کے لئے تین راہیں ہیں ۔ ۱۔ استغفار ۲۔ دُعا صحبت صلحاء۔ انسان کو صحبت سے بڑے بڑے فوائد پہنچتے ہیں۔ صحبت صالحین حاصل کرو۔ قربانی