حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 291
حقائق الفرقان ۲۹۱ سُورَةُ الْمَائِدَة دنیا کی جنت میں پہنچادیا ہے اور وید کی تعلیم نے تو ہزا رہا منتروں میں اس نرمیدہ انسانی قربانی کی تاکید لکھی ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۸۲، ۱۸۳) اولاد آدم ( یہاں اس امر سے بحث نہیں کہ کتنے آدم گزرے ہیں ۔ بہر حال ایک آدم کی اولاد ) نے قربانی کی۔ قربانی کہتے ہیں اللہ کے قرب کے حصول اور اس میں کوشش کرنے کو۔ میرا ایک دوست تھا اسے کبوتروں کا بہت شوق تھا۔ شاہ جہان پور سے تین سو روپے کا جوڑا منگوایا اسے اڑا کر اشہ کر کررہ رہا تھا کہ ایک بحری نے اس پر پر حملہ حملہ کیا کیا اور اور اسے اسے کاٹ کاٹ دیا۔ د میں نے کہا ا کہ کہ دیکھو یہ بھی قربانی ہے باز ایک جانور ہے اس کی زندگی بہت سی قربانیوں پر موقوف ہے۔ اسی طرح شیر ہے اس کی زندگی کا انحصار کئی دوسرے جانوروں پر ہے۔ بلی ہے اس پر چوہے قربان ہوتے ہیں ۔ پھر پانی میں ہم دیکھتے ہیں کہ مچھلیوں میں بھی یہ طریق قربانی جاری ہے۔ وہیل مچھلی پر ہزاروں مچھلیوں کو قربان ہونا پڑتا ہے اسی طرح اثر رہا ہے کہ جس پر مرغا قربان ہوتا ہے۔ غرض اعلی ہستی کے لئے ادنی ہستی قربان ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح انسان کی خدمت میں کس قدر جانور لگے ہوئے ہیں ۔ کوئی ہل کے لئے ۔ کوئی بگھیوں کے لئے ۔ کوئی لذیذ غذا بننے کے لئے ۔ پھر اس سے اوپر بھی ایک سلسلہ چلتا ہے وہ یہ کہ ایک آدمی دوسروں کے لئے اپنے مال یا اپنے وقت یا اپنی جان کو قربان کرتا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لڑائیوں میں ادنی اعلیٰ پر قربان ہوتے ہیں سپاہی قربان ہوتے جائیں مگر افسر بیچ رہے۔ پھر افسر قربان ہوتے جائیں مگر کمانڈرانچیف کی جان سلامت رہے۔ پھر کئی کمانڈرانچیف بھی ہلاک ہو جاویں مگر بادشاہ بیچ رہے۔ غرض قربانی کا سلسلہ دور تک چلتا ہے اس پر بعض ہند و جو ذبح اور قربانی پر معترض ہیں ان سے ہم نے خود دیکھا کہ جب کسی کے ناک میں کیڑے پڑ جاویں تو پھر ان کو جان سے مارنا کچھ عیب نہیں سمجھتے بلکہ ان کیڑوں کے مارنے والے کا شکر یہ ادا کرتے ہیں۔ شکریہ کے علاوہ مالی خدمت بھی کرتے ہیں ۔ پھر اس سلسلہ کا ئنات سے آگے اگلے جہان کے لئے بھی قربانیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اگلے زمانہ میں دستور تھا کہ جب کوئی بادشاہ مرتا تو اس کے ساتھ بہت سے معززین کو قتل کر دیا جاتا تا اگلے جہان میں اس کی خدمت کر سکیں حضرت ابراہیم علیہ السلام جس ملک میں تھے شام اس کا نام تھا وہاں آدمی کی قربانی کا بہت رواج تھا اللہ نے انہیں ہادی کر کے بھیجا اور اللہ نے ان کو حقیقت سے آگاہ کیا۔ حضرت