حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 283
حقائق الفرقان ۲۸۳ سُورَةُ الْمَائِدَة تھا) تو پھر کس کا بس چلتا ہے اللہ پر کچھ بھی ( پھر یہ کیا ہوا ) جب کہ ارادہ کیا تھا اللہ نے مسیح ابن مریم کے مار ڈالنے کا اور اس کی ماں کا اور جو اس خاص ملک میں تھے سب کا ( تو کوئی روک نہ سکا ) اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور جوان کے درمیان ہے وہ پیدا کرتا ہے جو چاہے، اور اللہ ہر ایک چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔ تفسیر۔ شرک کیا ہے؟ جس کے واسطے قرآن شریف نازل ہوا۔ سنو! ۔ دوسرا مرتبہ صفات کا ہے۔ اللہ تعالیٰ ازلی ابدی ہے۔ سب چیزوں کا خالق ہے وہ غیر مخلوق ہے۔ پس یہ صفات کسی غیر کے لئے بنانا شرک ہے۔ آریہ قوم نے پانچ از لی مانے ہیں ۔ اللہ قدیم از لی ہے ۲۔ روح ازلی ہے ۳۔ مادہ ازلی ہے۔ ۴۔ زمانہ ازلی ہے ۵۔ قضاء از لی ہے۔ جس میں یہ سب چیزیں رکھی ہیں۔ اس واسطے یہ قوم مشرک ہے۔ عیسائی قوم نے کہا ہے کہ بیٹا از لی ہے۔ باپ از لی ہے۔ روح القدس از لی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَثَةٍ (المائدة : ۷۴) ایک قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں اور تصرف میں کسی مخلوق کو بھی شریک بناتی ہے۔ بد بختی سے مسلمانوں میں بھی ایسا فرقہ ہے جو کہ پیر پرست ہے حالانکہ رسول کریم سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ صفحه ۲) ان آراد - ان تاکید یہ ۔ جب ارادہ کیا اللہ نے مسیح اور اس کی ماں اور اس ملک کے لوگوں کے مارنے کا ۔ ۱۹ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۵۰) ١٩ - وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصْرَى نَحْنُ اَبْنُوا اللَّهِ وَاحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوبِكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يشَاءُ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ - ترجمہ ۔ یہود اور نصاری دعوی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں ۔ تم جواب دو ( ایسا ہے تو ) پھر تم کو اللہ عذاب کیوں دیتا ہے یا دے گا تمہارے گناہوں پر ہاں تم تو بشر ہی ہو اس لے البتہ البتہ کا فر ہو گئے جنہوں نے کہا اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔