حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 284 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 284

حقائق الفرقان ۲۸۴ سُورَةُ الْمَائِدَة کی مخلوق میں اللہ جس کے چاہے گناہ ڈھانچے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور جوان دونوں میں ہے اور اُسی کی طرف پھرنا ہے۔ L تفسیر ۔ یہودیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور وحی پر ایمان لانے سے جو چیز مانع ہوئی وہ یہی تکبر علم تھا تھا فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُم مِّنَ الْعِلْمِ - (1) (المومن : ۸۴) انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارے پاس ہدایت کا کافی ذریعہ ہے۔ صحف انبیاء اور صحف ابراہیم و موسی ہمارے پاس ہیں ۔ ہم خدا تعالیٰ کی قوم کہلاتے ہیں ۔ نَحْنُ ابْنُوا اللهِ وَاحِبَّاؤُہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم عربی آدمی کی کیا پرواہ کر سکتے ہیں اس تکبر اور خود پسندی نے انہیں محروم کر دیا اور وہ اس رحمتہ للعالمین کے ماننے سے انکار کر بیٹھے جس سے حقیقی توحید کا مصفی اور شیریں چشمہ جاری ہوا۔ (الحکم جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۶) بنی اسرائیل جب مصر کی طرف گئے تو پہلے پہل ان کو یوسف علیہ السلام کی وجہ سے آرام ملا۔ پھر جب شرارت پر کمر باندھی تو فراعنہ کی نظر میں بہت ذلیل ہوئے مگر آخر خدا نے رحم کیا اور موسی علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کو نجات ملی۔ یہاں تک کہ وہ فاتح ہو گئے اور وہ اپنے تئیں نَحْنُ ابْنُوا اللَّهِ وَاحِبَّاؤُه سمجھنے لگے لیکن جب پھر ان کی حالت تبدیل ہو گئی ۔ ان میں بہت ہی حرام کاری، شرک اور بدذاتیاں پھیل گئیں تو ایک زبردست قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلط کیا۔ ( بدر جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه (۳) نَحْنُ ابْنُوا الله - آجکل سیدوں کی بھی یہی حالت ہے۔ کوئی کبریائی ایسی نہیں جو ان میں نہیں حالانکہ بعض ذلیل ہو رہے ہیں۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱ ۴ مورخه ۵ راگست ۱۹۰۹ء صفحه ۸۴) ۲۱ - وَ إِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا وَاتْكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَلَمِينَ - ترجمہ ۔ اور (وہ یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا اے میری قوم اللہ کے وہ احسان یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں۔ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کئے اور تم کو بادشاہ بنایا یعنی سلطنت والی قوم اور تم کو وہ کچھ دیا جو تمہارے زمانے میں کسی کو ہم نے نہیں د ں دیا تھا دنیا جہان سے ۔ ے یہ لوگ خوش ہوئے اس پر جو ان کے پاس علم تھا۔