حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 19
حقائق الفرقان ۱۹ سُورَةُ آل عِمْرَان سے بھی پوچھ کہ کیا تم نے بھی اسلام کی حالت اور راہ اختیار کی پس اگر وہ مسلمان یعنی اللہ کے فدائی ہو جائیں تو بے شک انہوں نے ہدایت پائی اور کامیاب ہو گئے اور اگر وہ پھر گئے تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ دیکھ رہا ہے بندوں کو ۔ تفسیر ۔ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ۔ دیکھو! باطن کا حال کسی کو معلوم نہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس زور سے کہتے ہیں کہ اے یہودیو! اے نصرانیو! سنو کہ جیسا میں جان و دل سے خدا کا فرماں بردار ہوں ایسا ہی میرے تابعدار فرمانبردار ہیں ۔ اگر ان میں کوئی ظالم و فاسق ہوتا جیسا کہ شیعہ سمجھتے ہیں تو کیا آپ یہ دعوی سے کہہ سکتے ؟ اسی مضمون کی آیت سورۃ بقر میں بھی ہے بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لله (البقرۃ: ۱۱۳) اور پھر فرما یا نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ۔ (البقرة : ۱۳۴ ) ۲۲ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۹ صفحه (۵۶) - إِنَّ ٢٢ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِأَيْتِ اللهِ وَ يَقْتُلُونَ النَّبِيِّنَ بِغَيْرِ حَقٌّ حَقٌّ وَ وَ يَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرُهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ - ترجمہ۔ جو لوگ منکر ہوتے ہیں اللہ کی نشانیوں کے اور ناحق نبیوں کے قتل کے ارادے کرتے ہیں اور ان لوگوں کے قتل کا جو انصاف کرنے کو کہتے ہیں ۔ تو مبارک باد دے دے ان کوٹیس دینے والے عذاب کی ۔ تفسیر - إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِأَيْتِ اللهِ - قرآن مجید کی ایک ایک آیت اللہ آیات ہے ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود آپ آیت ہیں ۔ آپ کے ساتھی آیت ہیں۔ يَقْتُلُونَ النَّبِيِّنَ بِغَيْرِ حَقٌّ ۔ پس آپ کے ساتھ جو مقابلہ کرتے ہیں وہ درحقیقت سب انبیاء سے مقابلہ کرتے ہیں کیونکہ آپؐ کی نبوت میں تمام انبیاء کی نبوت کا ثبوت موجود ہے ۔ فَبَشِّرُهُمْ ۔ ایسا کھول کھول کر اس بات کو بیان کر کہ اس کا اثر ان کے چہروں پر ظاہر ہو جاوے سورۃ بقر میں بھی یہی فرمایا ہے۔ ذلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِأَيْتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّنَ