حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 20
حقائق الفرقان ۲۰ سُورَةُ آل عِمْرَان بِغَيْرِ الْحَقِّ (البقرة : ۶۲ ) میں - رۃ : ۶۲ ) میں اِس آیت کے یقیناً یہی معنی سمجھتا ہوں کہ نبی کریم کا مقابلہ گویا سارے جہان کے نبیوں کا مقابلہ ہے اور ان کے قتل کی تجویزیں گویا تمام انبیاء کے قتل کے برابر ہے بلکہ آجکل کے جو انصاف سے حکم کرنے والے ہیں یعنی صحابہ جن کی تعریف میں آیا ہے وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ اور يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ ان سب سے مقابلہ کی ٹھانی ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۲۷ مئی ۱۹۰۹ صفحه ۵۶) ٢٣- أُولَئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِّنْ تصِرِينَ - ترجمہ یہی لوگ ہیں جن کے دین دنیا کے سب کام اکارت گئے اور ان کا کوئی حامی اور مددگار نہیں ہے۔ تفسير أُولَئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ۔ ان کو کھول کر سنا دو کہ تمہاری تمام تجویزیں اور منصوبہ بازیاں ناکام رہ جاویں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةً شَهْرٍ (صحیح بخاری كتاب الن التیمم باب اوّل) پھر ان کے دشمنوں کا جو حشر ہوا وہ سب نے دیکھا۔ اس کے بعد ابو بکر کے مقابلہ میں جو لوگ اُٹھے وہ بھی ناکام رہے۔ جب دنیا میں یہ حالت ہوئی تو بس آخرت میں بھی ضرور یہی ہوگا۔ وَمَا لَهُم مِّنْ تَصِرِينَ ۔ یہود کی قوم اس کا ثبوت موجود ہے۔ کسی ملک میں ان کو سر چھپانے کو جگہ نہیں ملتی ۔ جہاں جاتے ہیں جلا وطن کئے جاتے ہیں ۔ کوئی آدمی ان کی پیٹھ بھرنے والا نہیں ۔ سورۃ بقر میں بھی اسی مضمون کی آیت آئی۔ دیکھو رکوع ۱۰ پاره اول - أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيُوةَ ه۔ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ فَلَا يُخَفِّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ (البقرة : ۸۷) ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۶) ے یہ ان کی حالت اس وجہ سے ہوئی کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور وہ ناحق نبیوں سے مقابلہ کرتے تھے۔ ۲۔ اور علم والے گواہ ہیں کہ اللہ ہی سنبھالے ہوئے ہے سب کو انصاف سے۔ سے انصاف کرنے کو کہتے ہیں۔ ۴۔ مجھے ایک ماہ کی مسافت کا رعب عطا کیا گیا ہے۔ ۵ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اس دنیا کی زندگی کو آخرت سے ( بہتر سمجھ کر ) مول لے لیا تو ایسے لوگوں کی سز ا تخفیف اور کم نہیں ہو سکتی اور ان کا کوئی معاون اور مددگار نہ ہوگا۔