حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 18 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 18

حقائق الفرقان ۱۸ سُورَةُ آل عِمْرَان آشنا ، آپ کے کارکن ، آپ کی تعلیم ، آپ کی کتاب ۔ ان سب کو جب میں دیکھتا ہوں تو زبان بے اختیار بول اُٹھتی ہے کہ وہ ایک بے نظیر رسول تھا ۔ قوم کا ایک مدبر آیا۔ آپ فرما رہے تھے امر بالمعروف کرو اور نہی عن المنکر ۔ وہ یہ بات سنتے ہی پھڑک اُٹھا۔ اس نے جا کر قوم کو کہا۔ کیا تم پسندیدہ امور کرنا چاہتے ہو یا نہیں؟ وہ بولے ۔ ہاں ۔کیا تم ناپسندیدہ سے رکنا چاہتے ہو یا نہیں؟ کہنے لگے ۔ ہاں ۔ اس پر وہ بولا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں آ جاؤ کہ وہ بھی یہی فرماتا ہے ۔ أَسْلَمْتُ وَجْهِی سپرد کر دیا ہے اپنی تمام توجہ کو ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مؤرخہ ۲۷ رمئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۵) اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو دین کی توضیح اور تفسیر فرمائی ہے وہ یہ ہے اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الإِسْلامُ اللہ تعالیٰ کے حضور دین کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ الاسلام ۔ اپنی ساری قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ اللہ کا فرماں بردار ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو لے اور اس پر روح اور راستی سے عمل درآمد کرے۔ دین کے متعلق جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور سوال کیا ہے اور آپؐ نے صحابہ کرام کو بلکہ ہم کو آگاہ کیا ہے کہ یہ جبریل تھا۔ آتَاكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ پس دین کی حقیقت اور اس کا صحیح اور سچا مفہوم وہ ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بیان فرمایا۔ الا سلام کے معنے یہ ہیں سر رکھ دینا، جان سے، دل سے ،اعضا سے، مال سے۔ غرض ہر پہلو اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری کرنا۔ الحکم جلدے نمبر ۲ مؤرخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۴) ۲۱- فَإِنْ حَاجُوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ وَقُلْ لِلَّذِينَ أوتُوا الْكِتٰبَ وَ الْأُمِّينَ وَاسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا ۚ وَ إِنْ تَوَلَّوا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ - ترجمہ ۔ اس پر بھی اگر وہ تجھ سے جھگڑا کریں تو تو ان سے کہہ دے کہ میں نے اور میرے ساتھ والوں نے تو اپنے کو اللہ کی راہ میں فدا کر دیا ہے اور دے ڈالا ہے اور اہل کتاب اور بے پڑھے لوگوں