حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 271 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 271

حقائق الفرقان مله ۲۷۱ سُورَةُ الْمَائِدَة ہم ہے۔ ہم میں ہادی اور امام ہے ۔ ہم میں وہ ہے جس کی خدا تائید کرتا ہے۔جس کے ساتھ خدا کے بڑے بڑے وعدے ہیں ۔ اس کو حکم اور عدل بنا کر خدا نے بھیجا ہے مگر تم اپنی حالتوں کو دیکھو۔ کیا مدد اور عمل درآمد کے لئے بھی ایسا ہی قدم اٹھایا ہے جیسا کہ واجب ہے۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۱۶ مورخه ۵ رمئی ۱۸۹۹ء صفحه ۳ تا ۵ ) جو دین لے کر یہ خدا کا سچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم آیا۔ اس کا نام اسلام رکھا جس کے معنی ہی میں سلامتی موجود ہے۔ یہی وہ دین ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی رضامندی کا اظہار یہ کہہ کر فرمایا وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِینا اور اس اسلام پر عملدرآمد کرنے والے سچے مسلمان کو جس نتیجہ پر پہنچا یا وہ دار السلام ہے۔ پس کون ہے جو اس قدر سلامتیوں کو چھوڑے؟ وہی جو دنیا میں سب سے بڑھ کر بد نصیب ہو ! الحکم جلد ۵ نمبر ۵ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۰۱ صفحه (۶) یہ بالکل سچی بات ہے کہ خلفائے ربانی کا انتخاب انسانی دانشوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اگر انسانی دانش ہی کا کام ہوتا ہے تو کوئی بتائے کہ وادی غیر ذی زرع میں وہ کیونکر تجویز کر سکتی ہے۔ چاہے تو یہ تھا کہ ایسی جگہ ہوتا جہاں جہاز پہنچ سکتے ۔ دوسرے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے اسباب میسر ہوتے مگر نہیں۔ وادی غیر ذی زرع ہی میں انتخاب فرمایا اس لئے کہ انسانی عقل ان اسباب و وجوہات کو سمجھ ہی نہیں سکتی تھی جو اس انتخاب میں تھی ۔ اور ان نتائج کا اس کو علم ہی نہ تھا جو پیدا ہونے والے تھے عملی رنگ میں اس کے سوا دوسرا منتخب نہیں ہوا۔ اور پھر جیسا کہ عام انسانوں اور دنیا داروں کا حال ہے کہ وہ ہر روز غلطیاں کرتے اور نقصان اٹھاتے ہیں آخر خائب اور خاسر ہو کر بہت سی حسرتیں اور آرزوئیں لے کر مر جاتے ہیں لیکن جناب الہی کا انتخاب بھی تو ایک انسان ہی ہوتا ہے۔ اس کو کوئی نا کامی پیش نہیں آتی ۔ وہ جدھر منہ اٹھاتا ہے ادھر ہی اس کے واسطے کامیابی کے دروازے نور کھولے جاتے ہیں اور وہ فضل، شفا، نو راور رحمت دکھلاتا ہے۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ کی صدا کس کو آئی؟ کیا اپنی دانش اور عقل کے انتخاب کو یا وادی غیر ذی زرع میں اللہ تعالیٰ کے انتخاب کو؟ جناب الہی ہی کا منتخب بندہ تھا جو دنیا سے نہ اٹھا جب تک یہ صدا نہ سن لی۔ پس یاد رکھو کہ ما مور من اللہ