حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 270
حقائق الفرقان ٢٧٠ سُورَةُ الْمَائِدَة موجود ہیں۔ اللہ ہی میں ۔ احسان دیکھ لو۔ تم کچھ نہ تھے تم کو اس نے بنایا ۔ کیسا خوبصورت تنومند اور دانش مند انسان بنا دیا۔ بچے تھے ماں کی چھاتیوں میں دودھ پیدا کیا ، سانس لینے کو ہوا، پینے کو پانی ، کھانے کو قسم قسم کی لطیف غذا ئیں ، طرح طرح کے نفیس لباس اور آسائش کے سامان کس نے دیئے؟ خدا نے ! میں کہتا ہوں ۔ کیا چیز ہے جو انسان کو فطرةً مطلوب ہے اور اس نے نہیں دی۔ سچی بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسان اور افضال کو کوئی گن ہی نہیں سکتا۔ حسن دیکھو تو کیسا اکمل ۔ ایک نا پاک قطرہ سے کیسی خوبصورت شکلیں بناتا ہے کہ انسان محو ہو ہورہ جاتا ہے۔ پاخانہ سے کیسی سبز اور نرم دل خوش کن کو نپل نکالتا ہے۔ انار کے دانے کس لطافت اور خوبی سے لگاتا ہے۔ ادھر دیکھو ۔ اُدھر دیکھو۔ آگے پیچھے۔ دائیں بائیں ۔ جدھر نظر اٹھاؤ گے اس کے حسن کا ہی نظارہ نظر آئے گا اور یہ بالکل سچی بات پاؤ گے يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ (الجمعه : ٢) ساری دنیا میں جس قدر مذاہب باطلہ ہیں۔ انہیں دیکھو گے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے کسی اسم یا صفت کا انکار کیا ہے اور اسی انکار نے ان کو بطلان پر پہنچادیا ہے۔ ایک بت پرست اگر خدا تعالیٰ کو علیم خبیر سمیع ، بصیر، قادر جانتا ہے تو کیوں پتھر، شجر، ہوا، سورج، چاند اور ارذل ترین چیزوں کے سامنے سجدہ کرتا اور کیوں اس کی استی کرتا ہے اور کوئی جواب نہیں ملتا تو یہی عذر تراش لیا کہ ہماری عبادت صرف اسی لئے ہے کہ یہ اصنام و معبود ہم کو خدا تعالیٰ کے حضور پہنچادیں اور مقرب بارگاہ الہی بنا دیں۔ اصل یہی ہے کہ وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر غریب و گنہگار کی آواز سنتا ہے اور ہر اک دور شدہ کو نزدیک کرنا چاہتا ہے۔ اونچی آواز سے پکارو یا دھیمی آواز سے۔ وہ سمیع ہے۔ اگر ایسا مانتے تو کبھی کبھی وہ مخلوق عاجز اور ناکارہ مخلوق کے آگے ہاں ان اشیاء کے آگے جو انسان کے لئے بطور خادم ہیں سر نہ جھکاتے اور یوں اپنے ایمان کو نہ ڈبوتے ۔۔۔۔۔ سچے پرستار النبی اور مخلص عابد بنو۔ خدا کی طرف قدم اٹھاؤ۔ یہاں بھی رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دینا فرمایا۔ اسلام کا لفظ چاہتا ہے کہ کچھ کر کے دکھاؤ موجودہ حالت میں ہم نے ( ہم سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے امام کے ہاتھ پر تو بہ کی ہے ) اور مسلمانوں سے بڑھ کر امتیاز پیدا کیا ہے۔ ہم میں نے اے اللہ ہی کی تسبیح میں لگی ہوئی ہیں سب چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۲۔ امام سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں ۔ ناقل