حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 17
حقائق الفرقان ۱۷ سُورَةُ آل عِمْرَان ٢٠ - إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرُ بِأَيْتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ - ترجمہ۔ بے شک اللہ کے نزدیک وہی دین پسند ہے ( جو آدمی کو اللہ کا ) مطیع اور فرمانبردار بنائے اور اہل کتاب نے جھگڑا بھی اُسی وقت کیا جب آچکا اُن کے پاس علم آپس کی ضد وحسد سے اور جو چھپائے اللہ کے نشانات اور اُس کا انکار کرے تو بے شک اللہ بہت ہی جلد حساب لینے والا ہے۔ تفسیر - إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ ۔ میں نے دنیا کے بہت سے مذاہب کی کتابوں کو دیکھا ہے ان کی الہامی کتابوں میں ان کے مذہب کا کوئی نام نہیں ۔ مگر اللہ نے ہمارے لئے جو دین پسند کیا اس کا نام اسلام بتلایا اور فرمایا کہ وہ دین جو خدا کے حضور پسندیدہ ہے وہ یہی ہے کہ فرمانبرداری ہو۔ حضرت نوح آ گئے تو ہم تابعدار ہیں پھر ابراہیم آئے ہم فرمانبردار ہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام کا دور ہے ہم مطیع فرمان ہیں۔ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہم ان کے غلام ہیں ۔ پس یہی سلامت روی کی راہ ہے۔ یہ نظارہ گورنمنٹ کی ظاہری سلطنت میں بھی نظر آتا ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر جاتا ہے دوسرا آتا ہے۔ رعایا کو کسی خاص شخص سے وابستگی نہیں ۔ پس جو آیا اس کے وہ مطیع ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَةً (البقرة: ٩٢) کہتے ہیں بہت ناپسند کیا ہے۔ مسلم وہی ہے جو سب انبیاء و اولیاء وخلفاء کا تابع فرمان ہو۔ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ ۔ انہوں نے خلاف ورزی کی مگر اس کے بعد جب ان کے پاس علم آچکا میرے عقیدہ کے مطابق خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ علیہ وسلم کا وجود ایک آیت تھا۔ زفرق تا بقدم هر کجا که می نگرم ه کرشمہ دامن دل می کشد که جا اینجاست آپ کے اقوال ، آپ اقوال ، آپ کے افعال ، آپ کے پاس بیٹھنے والے، آپ کے دوست، آپ کے اے ہم تو اس کلام کو جو ہم پر اتر چکا ہے مانتے ہیں اور جو اس کے سوا ہے اس کے منکر ہیں ۔ ۲۔ سر سے لیکر پاؤں تک میں جہاں بھی دیکھتا ہوں ، جس کا جلوہ ہر مقام پر مجھ سے یہی کہتا ہے کہ اسی کو دیکھتے رہو کیونکہ اصل مقام حسن یہی ہے ۔ (ناشر)