حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 258
حقائق الفرقان ۲۵۸ سُورَةُ النِّسَاء ہیں ان سب سے تعجب انگیز وہ دلیل ہے جو قرآنی لفظ كَلِمَہ سے عیسائیوں نے ماخذ کی ہے۔ عیسائی کہتے ہیں جب حضرت مسیح علیہ السلام خدا کا کلمہ ہوئے تو خدا ہی ہوئے ۔ الجواب ۔ اگر قرآنی محاورہ سے کسی چیز کا کلمۃ اللہ ہونا اس چیز کے خدا ہونے کی دلیل ہے تو تمام کلمات الہیہ کو چاہئے کہ خدا ہوں مثلاً قرآن مجید میں وارد ہے وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ - الصفت : ۱۷۲) اور ضرور پہلے ہو چکی بات ہماری ہمارے رسول بندوں کی نسبت۔ اب اس کی تفسیر سینے کہ وہ کلمہ کیسا ہے اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ - وَ إِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَلِبُونَ (الصفت : ۱۷۳، ۱۷۴) بے ریب (وہی اللہ کے رسول ) ضرور اللہ تعالیٰ کے یہاں سے مدد دیئے گئے ہیں اور بے ریب ہمارا ہی لشکر ( رسول اور ان کے سچے اتباع ) ضرور وہی غالب ہیں اور فرمایا وَ الَّذِينَ آتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزِّلُ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَ عَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِهِ ۚ وَ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۔ (الانعام : ۱۱۵ ۱۱۶۰) اور وہ جن کو دی ہم نے کتاب وہ جانتے ہیں بے شک یہ قرآن تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ۔ کامل صداقت اور حکمت کے ساتھ پیس نہ ہو گا تو او مخاطب یا نہ ہو جیو تو او مخاطب متردد اور پورا ہے کلام تیرے رب کا سچائی اور انصاف میں کوئی بھی نہیں جو اس کے کلاموں کو بدلا وے اور وہ سنتا جانتا ہے اور فرمایا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا - (التوبہ: (۴۰) اور زیر کرد به (۴) اور زیر کر دیا اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات کو اور زبردست اور پکی ہیں اللہ کی باتیں ۔ کتب عہد عتیق وجدید میں بھی کلمۃ اللہ کے معنے کلام خدا اور حکم خدا آئے ہیں۔ سنو ! بِكَلِمَةِ الرَّبِّ ثَبَتَ السَّمُوتُ وَبِرُوحِ فِيْهِ جَمِيعِ جُنُودِهَا زبور ۶-۳۳ ۔ خداوند کے کلام سے آسمان بنے اور ان کے سارے لشکر اس کے منہ کے دم سے ۔ فلما كَانَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ حَلَّتْ كَلِمَةُ اللهِ عَلَى تَأْثَانِ النَّبِي * اخبار الا یام کی پہلی کتاب ۷ ا باب ۳۔ اسی رات کو ایسا اتفاق ہوا کہ خداوند کا کلام ناثان نبی کو پہنچا۔ حلت كلمة الرب على يوحنا بن ذكر يا في در ہماں شب چنان اتفاق افتاد که کلام خداوند به نامشان نبی رسید