حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 257
حقائق الفرقان ۲۵۷ سُورَةُ النِّسَاء ہے اور جب نکل جاوے تو آدمی سانس نہیں لے سکتا اور جب پوری نکل جاوے تو آنکھیں اسی طرف کھلی رہ جاتی ہیں جب تک بند نہ کی جاویں اسی کو فارسی زبان میں جان کہتے ہیں۔ مذکر کا لفظ ہے (اور مؤنث بھی بولا جاتا ہے ) ۔ غالباً الروح عام جاندار کو اسی واسطے کہا ہے جہاں کہا ہے لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا بلکہ مقدسہ کتب میں بھی روح وسیع معنی رکھتا ہے۔ ہاں الہی روح مقدسہ کتب میں وسیع معنی رکھتا۔ کھتا ہے۔ چند ایسے معنی سنو جو اس مقام کے مناسب ہیں۔ اس ہوا کے معنے جو پانی پر چلتی ہے۔ ”زمین ویران اور سنسان تھی اور گہرایوں کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی، پیدائش ا باب ۲۔ اس سانس کے معنی جس الد وو - ۔ سے آدمی زندہ ہوتا ہے ۔ جب میں تمہاری قبروں کو کھولوں گا اور تم کو تمہاری قبروں سے نکالوں گا تب تم جانو گے کہ خداوند میں ہوں ۔ جب میں اپنی روح تم میں رکھوں گا اور تم جیو گے۔“‘ حز قیل ۳۷ باب ۱۴ ۔ کلام الہی کے معنے ۔ خدا وند کی روح اس دن سے ہمیشہ داؤد پر اُتر تی رہی ۔ ا سموئیل ۱۶ باب ۱۳ بلکہ بری روحوں کو بھی خدا کی روح کہا ہے۔ جیسے لکھا ہے پر خداوند کی روح ساؤل پر سے چلی گئی اور خداوند کی طرف سے ایک بری روح اسے ستانے لگی ۔ اسموئیل ۱۶ باب ۱۴۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے یا یوں کہیے کہ قرآن نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی روح فرمایا۔ سو جیسے بیان ہو چکا اتنے امر سے حضرت مسیح کا خدا ہونا ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اور قرآن مجید نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اور انسانی سانس کو بھی اپنی روح فرمایا ہے ۔ بات یہ ہے کہ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہی مخلوق ہے۔ چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام اس کے خاص بندے اور اس کے کلام کے پہنچانے والے تھے اس واسطے ان کو اپنی روح فرمایا ۔ ایسی اضافتیں ہر زبان میں عزت کے لئے ہوا کرتی ہیں جیسے حضرت صالح کی اونٹنی کو قرآن کریم ناقةُ اللهِ ۔ اللہ تعالیٰ کی انٹنی فرماتا ہے اور اچھے بندوں کو عباداللہ یعنی اپنے بندے فرماتا ہے۔ مسیح علیہ السلام کی الوہیت پر جس قدر دلائل میں نے سنے (بعض احادیث میں آیا ہے ) جاندار چیز کو نشانہ مت بنایا کرو۔