حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 256
حقائق الفرقان ۲۵۶ سُورَةُ النِّسَاء (اس قرآن کو ) روح القدس ( جبرائیل ) تیرے رب کی طرف سے آہستہ آہستہ لایا ہے اور یہ قرآن کامل راستبازی کے ساتھ ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام چونکہ کلام الہی کے لانے والے اور کلام الہی بندوں کو سمجھانے والے تھے ان کو بھی روح فرمایا جیسے فرمایا : وَ كَلِمَتُهُ الْقُهَا إلى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ - (النساء: ۱۷۲) اور مسیح الہی کلمہ ہے (اس پاک کلام الہی اور بشارت خداوندی کا ظہور ہے جو جبرائیل لائے تھے ) جو پہنچا مریم کی طرف اور اسی کی طرف سے وہ روح ہے۔ انسانی سانس کو بھی قرآن کریم نے روح فرمایا ہے جیسے کہا ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلْلَةٍ مِّنْ مَّاءِ مهِينٍ ثُمَّ سَونَهُ وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوحِهِ - (السجدۃ:۹، ۱۰) پھر بنائی اولاد آدم کی ایک ایسے خلاصہ سے جو سیال اور کمزور ہے۔ پھر ٹھیک درست کیا اس کو اور پھونک دی اس میں ایک روح جو اللہ کی طرف سے آئی اور فرمایا - فَإِذَا سَوَيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ - (الحجر : ٣٠) پس جب ٹھیک درست کردوں میں اس کو اور پھونک دوں اس میں اپنی روح تو اس کے لئے گر پڑیو سجدہ کرتے۔ عرب کی زبان میں بھی اسی نفس اور سانس کو روح کہا گیا ۔ دیکھو ذو الرمة عرب کے قدیم شاعر کا قول ہے۔ فَقُلْتُ لَهُ ارْفَعُهَا إِلَيْكَ وَأَحْيِهَا بِرُوحِكَ وَاجْعَلْهُ لَهَا قِيْتَةً قَدْرًا پس میں نے اسے کہہ دیا (اپنے ساتھ والے کو کہا ) اس آگ کو اپنے منہ کی طرف اُٹھا لے۔ اور اسے روشن و زندہ کر اپنی پھونک سے اور اپنی پھونک کو اس آگ کے واسطے لکڑیاں بنا ہانڈی کی خاطر۔ تاج العروس شرح قاموس اللغة میں یہ شعر ذو الرمة كا موجود ہے۔ دیکھو مادہ ، روح اور اسی روح کے معنے کلام الہی وغیرہ وغیرہ لکھ کر کہا ہے سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمَ يَقُولُ الرُّوحُ إِنَّمَا هُوَ النَّفْسُ الَّذِي يَتَنَفُسُهُ الْإِنْسَانُ وَهُوَ جَارٍ فِي جَمِيعِ الْجَسَدِ فَإِذَا خَرَجَ لَمْ يَتَنَفَّسُ بَعْدَ خُرُوجِهِ فَإِذَا تَمَّ خُرُوجُهُ بَقِيَ بَصَرُهُ شَاخِصًا - نَحْوَهُ حَتَّى يَغْمَضَ وَهُوَ بِالْفَارِسِيَّةِ جَانُ يُذَكَّرُ وَيُؤَنَّتُ) انعلی۔ میں نے ابوالہیثم سے سنا فرماتے تھے روح تو آدمی کی سانس ہی ہے اور وہ تمام بدن میں چلتی