حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 255
حقائق الفرقان ۲۵۵ سُورَةُ النِّسَاء يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ - (النحل: ۳) اتارتا ہے فرشتے روح ( کلام الہی ) کے ساتھ اپنے حکم سے اس پر جس پر اپنے بندوں سے چاہتا ہے اور اس کلام میں حکم دیتا ہے کہ ان مشرکوں کو سنا دو کہ اللہ کے سوا دوسرا کوئی نہیں جو کاملہ صفات سے موصوف اور برائیوں سے منزہ ہوا اور فرمانبرداری کا مستحق ۔ پس اس کے فرمانبردار بنے رہو ۔ (۳) يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا - (بنی اسرائیل:۸۶) لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ قرآن کیا چیز ہے۔ تو کہہ دے قرآن روح ہے تیرے رب کی طرف سے اور تم لوگ تو کم علم ہو کہ ایسی صریح بات نہیں سمجھتے ) دوسرا محاورہ روح ، جبرائیل کو کہا ہے کیونکہ وہ کلام الہی کے لانے والے ہیں جیسے فرمایا (1) نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ - (الشعراء : ۱۹۴ ۱۹۵) روح الامین ( جبرائیل) اس قرآن کو تیرے دل پر لایا ہے تا کہ تو نافرمانوں کو ان کی نافرمانی پر ڈرانے والا ہو ۔ (۲) فَاتَّخَذَتُ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا - قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا - قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلْمًا زَكِيًّا - ( مریم : ۱۸ تا ۲۰) پس بنا لیا مریم نے اپنے اور لوگوں کے درمیان ایک پردہ تو بھیج دیا ہم نے (اللہ فرماتا ہے ) اس کی طرف اپنا روح تب بن گیا وہ روح ہمارا مریم کے سامنے پورے آدمی کی شکل پر۔ تب مریم نے کہا میں الرحمٰن سے تیرے مقابلہ میں حمایت چاہتی ہوں ۔ اگر تو ہو خدا کا خوف کرنے والا ۔ (اسے خدا کی روح جبرائیل فرشتہ نے کہا) میں تو صرف تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں اور اس لئے آیا کہ تجھے ایک اچھا بچہ دے جاؤں ۔ ( یہ فرشتہ بشارت دینے کو آیا تھا) قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ ۔ (النحل: ۱۰۳) تو کہہ دے بقیہ حاشیہ۔ مستحق وہ ایک ہے اپنی ذات میں یکتا صفات میں بے ہمتا ترکیب و تعدد سے پاک وہ اصل مطلب مقصود بالذات بھروسہ کے قابل ہر کمال میں بڑھا ہوا جس کے اندر نہ کچھ جاوے کہ کھانے پینے کا محتاج بنے نہ اس کے اندر سے کچھ نکلے کہ کسی کا باپ بنے پھر نہ وہ کسی کا باپ اور نہ بیٹا اس کے وجود میں اس کی بقا میں اس کی صفات میں اس کی ذات میں کوئی اس کا ہمتا اس کا جوڑی نہیں۔