حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 252
حقائق الفرقان ۲۵۲ سُورَةُ النِّسَاء ایک وحی ہیں جو مریم کی طرف اتاری گئی تو اللہ اور اس کے رسولوں کو مانو۔ اور نہ کہو اللہ تین ہیں۔ رک رہو اور باز آجاؤ کہ تمہارا بھلا ہو اللہ تو بس ایک اکیلا ہی سچا معبود ہے پاک ذات ہے اس سے کہ اس کی کوئی اولاد ہو ہاں سب کچھ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اور اللہ ہی کارسازی کے لئے بس ہے۔ تفسیر كَلِمَتُه - اس کے بارے میں ایک کلام آیا تھا مریم کی طرف کہ ایسا لڑکا ہوگا اور وہ کلام مبشر اسی اللہ کی طرف سے نازل ہوا تھا (رُوحٌ مِنْهُ )۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۰) إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلَى مَرْيَمَ وَ رُوحُ مِنْهُ فَأْمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِہ ۔ اس کے سوا نہیں کہ عیسی بن مریم اللہ کا بھیجا ہوا اور اس کا مخلوق ہے جو مریم کی طرف ڈالا گیا اور اس کی روح ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ ( تصدیق براہین احمدیہ ۔ کمپیوٹر ائز ڈایڈیشن صفحہ ۹۹ حاشیہ ) اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ عیسٰی ابن مریم اللہ کا رسول اور اس کا مخلوق ہے جو مریم کے پیٹ سے پیدا ہوا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹر ائز ڈایڈ ! ز ڈایڈیشن صفحہ ۱۸۳) ت إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ (النساء : ۱۷۲) عیسائیوں کا ثبوت ان آیات میں حسب تسلیم اہل اسلام کے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی روح فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی روح اللہ تعالیٰ سے کم نہیں بلکہ عین خدا ہے ۔ الجواب :- عیسائیو! اگر ایسے دلائل سے کام چلانا ہے تو پھر یوں کہو کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی خدا ہیں (معاذ اللہ ) کیونکہ قرآن مجید نے حضرت جبرائیل کی نسبت بھی اسی طرح روحنا (ہماری روح) کا کلمہ بولا ہے جس طرح سوال کی پہلی آیت میں حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کی نسبت روحنا فرمایا۔ غور کرو اس آیت پر فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا