حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 253
حقائق الفرقان ۲۵۳ سُورَةُ النِّسَاء فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا - ( مریم : (۱۸) پس بنا لیا مریم نے اپنے اور لوگوں کے درمیان ایک پردہ تو بھیج دیا ہم نے (اللہ فرماتا ہے ) اسی کی طرف اپنے روح کو تب بن گئی وہ روح ہمارا مریم کے سامنے پورے آدمی کی شکل پر ۔ اگر اس میں کسی کو وہم پڑے کہ یہاں بھی حضرت مسیح مراد ہیں تو اس کے ساتھ کی اور دو آیتیں پڑھ لے ۔ قَالَتْ اِنّي اَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا - قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَمًا زَكِيًّا - ( مريم : ۱۹ ، ۲۰) تب کہا مریم نے میں الرحمٰن کی حمایت چاہتی ہوں تیرے مقابلہ میں اگر تو خدا کا خوف کرنے والا ہو۔ کہا (اسے خدا کی روح جبرائیل نے ) میں تو صرف تیرے رب کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ تجھے ایک اچھا بچہ دے جاؤں (اس کی بشارت سے مراد ہے ) بلکہ چاہئے کہ حضرت سید نا آدم علیہ السلام کی سانس بھی جس کی نسبت خدا نے روحی فرمایا ہے خدا ہو ۔ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِى فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ - (الحجر : ۳۰) پس جب میں اسے (آدم کو ٹھیک درست کر دوں اور اس میں اپنی روح ( سانس ) پھونک دوں تو اس کے لئے گر پڑیو سجدہ کرتے۔ بلکہ سب آدمیوں کی ارواح خدا ہوں ۔ کیونکہ قرآن مجید میں نسل آدم کی نسبت آیا ہے کہ ان کی روح خدا کی روح ہے۔ ثم جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلْلَةٍ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِينٍ ثُمَّ سَولَهُ وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوحِهِ - (السجده : ۹ ، ۱۰) پھر بنائی اولاد آدم کی ایسے خلاصہ سے جو سیال اور کمزور ہے پھر ٹھیک درست کیا اور پھونک دی اس میں ایک روح جو اللہ کی طرف سے آئی۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی کلام کسی شخص کے منہ سے کسی کو سنانے کے واسطے نکلتا ہے تو اس وقت ایک شخص اس کلام کا سنانے والا ہوا کرتا ہے اور دوسرا اس کلام کا سننے والا بولنے والا اپنے کلام کے ایک معنی رکھتا ہے اور اس کلام میں اس کی ایک معہود غرض ہے۔ وہ اسی معنے اور غرض کے واسطے اس کلام کو بولتا ہے مگر سننے والا غالباً اس کلام کے معنی اور مطلب کو ایسے مذاق و اعتقاد پر ڈھالا کرتا ہے جو معنی متکلم کے مذاق اور مشن کے مناسب نہیں ہوا کرتے ۔اسی واسطے بولنے والے کو اپنے کلام کے معنی بتانے پڑتے ہیں یا لائق اور منصف سننے والوں کو اس متکلم کا مشن اور طرز ملحوظ رکھ کر