حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 245 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 245

حقائق الفرقان ۲۴۵ سُورَةُ النِّسَاء تفسیر - بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ - بلند مرتبہ بتا یا اپنی جناب میں ۔ الَّا لَيُؤْمِنَنَّ به حضرت عیسی پر ایمان لانے کے معنی ہوں تو پھر اسلام کو کیا۔ جس میں حضرت محمد مصطفے پر ایمان لانا ضروری ہے۔ صحیح معنی یہ ہیں ۔ کوئی اہلِ کتاب ہو ( یہودی، عیسائی ) حضرت مسیح کے قتل پر (به) ایمان لاتا ہے ( لاتا رہے گا ) ۔ مگر یہ سب ایمان ہر ایک کتابی کا مر نے سے پہلے تک ہے۔ مرنے کے بعد حقیقت کھلے گی کہ میں غلطی پر تھا۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۰) وَ إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ الآلَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (النساء: ۱۶۰) کا ترجمہ یہ ہے اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر ضرور ایمان لائے گا ساتھ اس قتل کے قبل موت اپنی کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے قتل نہیں کیا مسیح کو یقیناً بلکہ اللہ نے اسے بلند کیا اپنی طرف ۔ اللہ تعالیٰ ان کارڈ فرماتا ہے کہ مشتبہ غیر یقینی بات پر ایمان کیسی حماقت ہے ۔ (الحکم جلد ۵ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۱) وَ يَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ۔ اس سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن مسیح گواہی دے گا۔ دنیا میں آ کر نہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ اگست ۱۹۰۹ ء صفحه ۸۱) آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الكتب ---- کی تشریح و تصریح سوال اول ۔ وَ إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ الأَلَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شهيدا (النساء: ۱۲۰) میں ضمیر موتہ کیوں مسیح علیہ السلام کی طرف راجع نہ سمجھی جاوے جس سے کہ کل اہل کتاب کے ان پر ایمان لانے کا منشاء آیت پورا ہو۔ ورنہ کل اہل کتاب کے ان پر ایمان لانے کی بشارت کے معنے ناقص رہ جاتے ہیں ۔ الجواب قرآن کریم کی کسی آیت کے معنے کرنے کے۔ لئے منجملہ بہت سے اصولوں کی یہ اصل ہاتھ سے نہیں دینی چاہئے کہ قرآن کریم کے معانی خود قرآن مجید اور فرقان حمید میں دیکھے جاویں اور پھر اسماء الہیہ کے خلاف کسی لفظ کے معنے نہ لئے جاویں۔ ایسا ہی تعامل سے جس کا نام سنت ہے معانی لے اور اس سے باہر نہ نکلے اور سنن الہیہ ثابتہ کی خلاف ورزی نہ کرے اور لغت عرب اور محاورات ثابتہ عن العرب