حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 246
حقائق الفرقان ۲۴۶ سُورَةُ النِّسَاء کے خلاف نہ ہو۔ پھر عرف عام سے جس کو معروف کہتے ہیں معانی باہر نہ ہوں ۔ احادیث صحیحہ ثابتہ کے خلاف نہ ہوں ۔ کتب سابقہ کے مسلمہ حصوں کے خلاف نہ ہوں ۔ قرآن مجید کے ترجمہ کرنے میں جن لوگوں نے ان اصولوں اور دوسرے اصولوں کی پرواہ نہیں کی انہوں نے غلطی کھائی ہے خصوصاً معترضین و مخالفین اسلام اسی اصل کے نہ سمجھنے کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں اور افسوس سے کہا جاتا ہے کہ اکثر مسلمان بھی ان اصولوں سے ناواقف ہیں ور نہ ہم جو کچھ حضرت اقدس مسیح موعود کے متعلق استشہاد قرآنی پیش کرتے ہیں ان کے سمجھنے میں انہیں وقت نہ ہوتی ۔ مثال کے طور پر آپ اسی آیت کو لیجئے جس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ جو معنی ہمارے مخالف اس آیت کے کرتے ہیں کہ ہر ایک اہل کتاب مسیح پر ایمان لے آئے گا ۔ یہ معنے اگر کئے جاویں تو اس سے ایسی قباحت لازم آتی ہے جس کا کوئی مسلمان قائل نہیں ہو سکتا اور قرآن مجید میں عظیم الشان اختلاف پیدا ہو جاوے گا ۔ حالانکہ قرآن کریم کی صداقت اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی یہ زبردست دلیل ہے کہ اس میں اختلاف نہیں جیسا کہ فرمایا ہے کو كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اختلافا كثيرا (النساء : ۸۳) کیونکہ اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ مسیح کے آنے پر سب اہل کتاب اس پر ایمان ۔ پر ایمان لے آئیں گے۔ اب جائے غور ۔ ئے غور ہے کہ کیا مسیح کی آما کی آمد ثانی پر وہ سب اہل کتاب جو اس وقت سے پہلے مر چکے ہوں گے۔ پھر زندہ ہو جائیں گے؟ جو صریحاً باطل ہے۔ اور کوئی مسلمان ایسا عقیدہ نہیں رکھ سکتا اور اگر یہ ہو کہ صرف اس زمانہ کے اہل کتاب ایمان لائیں ہ گے تو پھر کل کل نہ رہا۔ پھر دوسری خرابی ایسے معنے کرنے میں یہ ہوگی کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح کو بطور وعدہ بشارت دیتا ہے وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ - (ال عمران:۵۶) یعنی اللہ تعالیٰ تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر قیامت تک غالب رکھے گا۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ قیامت اگر وہ قرآن اللہ کے سواکسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔