حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 244

حقائق الفرقان ۲۴۴ سُورَةُ النِّسَاء الا اتباع الظن - سیالکوٹ میں ایک پادری تھے۔ ان سے میری گفتگو ریل پر ہوئی۔ میں نے تمام واقعات متعلقه صلیب ان سے منوا لئے گویا اس نے دبی زبان سے اقرار کیا کہ مسیح کے مقتول ہو جانے کا ان کو یقین نہیں ۔ ظن ہی ظن ہے ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ را گست ۱۹۰۹ صفحه ۸۱) وَلكِنْ شُبّهَ لَهُم - مشبه بالمصلوب بنایا گیا۔ ان کے لئے بارہ باتیں بتائی ہیں ۔ تشهید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۰) حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق کیا : کیا خیال ہے آیا وہ آیا وہ مصلوب ہوئے ہیں اگر ہوئے ہیں تو آیا صرف صلیب پر لٹکائے گئے اور رہے وہ زندہ یا مصلوب ہونے کے معنے صلیب پر لٹکانے کے بعد موت بھی لازمی نتیجہ ہوتی ہے اور آیت قرآن کریم مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ (النساء : ۱۵۸) کوکس طرح مطابق کیا جاتا ہے اور کیا معنے لئے جاتے ہیں؟ حضرت مسیح مصلوب نہیں ہوئے ۔ مصلوب کے معنے عربی زبان میں ہیں وہ دکھ جس سے انسان کی چربی پگھل کر نیچے گر جاوے۔ صرف لکڑی پر چڑھنے کا نام صلیب نہیں بلکہ یہ لکھا ہے کہ مصلوب وہ ہوتا ہے کہ جس کی پیٹھ کی چربی پگھل کر گر جاوے۔ (الحکم جلد ۹ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۵ صفحه ۱۱) ۱۵۹ ۱۶۰ - بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وَ كَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَ إِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۚ وَ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا - ترجمہ ۔ ( وہ ملعون کیونکر ہو سکتا تھا ) جس کا رفع الی اللہ ہو یعنی اس کو اللہ نے اپنا مقرب نبی بنایا اور اللہ بڑا ز بر دست بڑا حکمت والا ہے۔ اور کوئی بھی اہل کتاب میں سے نہیں (خواہ یہودی ہو یا نصاری ) وہ ایمان لائے ہیں اور لائیں گے یا سدا ایمان رکھیں گے (اس کی صلیبی موت اور لعنتی موت پر ) اپنے مرنے سے پہلے اور قیامت کے دن خود حضرت مسیح ان لوگوں پر گواہی دیں گے۔ ے وہ ملعون ثابت ہوا اور نہ وہ سولی پر مرا۔