حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 234 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 234

حقائق الفرقان ۲۳۴ سُورَةُ النِّسَاء - إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَلًا بَعِيدًا - ترجمہ ۔ اللہ یہ تو معاف نہیں کرتا کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک کیا جاوے اور اس کے نیچے کے گناہ کی مغفرت کرتا ہے جس کو چاہے اور جو اللہ کا شریک کرلے وہ دور دراز گمراہی میں جا پڑا ۔ تفسیر - إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ - شرک کے معنے ہیں کسی کے ساتھ سانجھی کرنا۔ اللہ کی ذات ۔ اللہ کی صفات ۔ اللہ کے افعال کا کسی کو ہمتا بنانا۔ اللہ کی عبادت جس طرح کی جاتی ہے۔ اسی طرح ح کسی دوسرے کی عبادت و تعظیم کرنا۔ ایسی کوئی قوم پیدا نہیں ہوئی ہے جس نے خدا کی ذات جیسی کوئی ذات مانی ہو ۔ اسی لئے انبیاء علیهم السلام نے خدا کی ذات کی توحید کا بیان کم فرمایا ہے۔ صرف ایک قوم ہے جو شنو یہ کہلاتی ہے۔ وہ یزدان واہرمن مانتے ہیں۔ صفات الہی میں بھی لوگوں نے شرک بہت کم کیا ہے۔ خدا کے افعال میں بھی لوگوں نے شرک کم کیا ہے۔ مشرک بھی مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کو خدا نے پیدا کیا ہے۔ ہاں چوتھی قسم کا شرک شرک فی العبادت ہے۔ کل انبیاء اسی شرک کے دور کرنے کے لئے آئے ہیں۔ بتوں سے مشرک حاجات مانگتے ہیں۔ ان کے آگے سجدہ کرتے (ہیں)۔ مَا دُونَ ذَلِكَ - میں مَا دُونَ کے معنے ہیں کہ اس سے نیچے اتر کر جو گناہ ہیں وہ معاف کر دیتا ہے۔ کیونکہ خدا کا انکار شرک سے بھی بڑھ کر گناہ ہے۔ پس مَا دُونَ کا ترجمہ سوائے پسندیدہ نہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۰ مؤرخہ ۲۹ جولائی ۱۹۰۹ صفحه ۸۰) أن يُشْرَكَ بِه - ا - اللہ کی ذات جیسی ذات ۔ ۲ ۔ صفات جیسی صفات ۔ ۳۔ افعال جیسے افعال مانے جائیں ۔ ۴۔ عبادت کے طریق میں جو انبیاء نے بتائے کسی کو شریک کرے۔ ۵۔ ایک شرک فی العادت ہے ۔ تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۹) شرک وہ بری چیز ہے کہ اس کی نسبت خدا نے فرما دیا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَ يَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ پھر بھی مسلمان اس کے معنے نہ سمجھیں تو افسوس ۔ سب سے پہلا کلام جو انسان کے کان میں بوقت پیدائش و بلوغ ڈالا جاتا ہے وہ شرک کی تردید