حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 227 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 227

حقائق الفرقان ۲۲۷ سُورَةُ النِّسَاء تھے۔ فرشتے کہیں گے کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ اس میں تم کسی طرف کو چلے جاتے ۔ ہاں تو یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ تفسير - إِنَّ الَّذِينَ تَوَقَّهُمُ الْمَلَيكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ (النساء :۹۸)۔ ان ظالموں کی روح کو ملائکہ قبض کرتے ہیں ۔ ان آیات کریمہ میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ ہی کو متوفی فرمایا ہے اور پھر ملک الموت کو اور پھر اور اور ملائکہ کو۔ ریویو آف ریلیجنز جلدے نمبر ۶، ۷ جون جولائی ۱۹۰۸ صفحہ ۲۷۸، ۲۷۹) أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللهِ وَاسِعَةً ۔ تم سب نے تجربہ کیا ہوگا کہ بعض اوقات انسان کا جی چاہتا ہے کہ آج عبادت ہی کریں۔ بعض آدمیوں کو دیکھ کر بھی عبادت کو جی چاہتا ہے۔ اسی طرح بعض موقعوں پر خدا سے غفلت پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ملنے سے خدا سے نفرت پیدا ہو کر دنیا کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور بعض شخصوں کو دیکھ کر دنیا سے دل سرد ہو جاتا ہے اور آخرت کا خیال آ جاتا ہے۔ یہ ایک دنیا کے عجائبات میں سے ہے۔ یہ دونوں حالتیں قریباً ہر انسان پر وارد ہوتی ہیں۔ بعض کھانے۔ چار پائی اور مکان میں غفلت پیدا ہوتی ہے۔ نبی کریم کا حکم ہے کہ ایسی جگہ کو بدل دو۔ چار پائیوں کے بستروں کے بدلنے سے بھی حالت بدل جاتی ہے۔ یہاں اسی مسئلہ کو خدا نے بیان کیا ۔ جس ملک میں رہنے سے آدمی دین کو بھولے اسے کیوں نہ چھوڑ دے۔ فرشتے ان پر سختی کریں گے اور کہیں گے کہ تم ایسے مقاموں میں رہے کیوں؟ کیا خدا کی زمین فراخ نہ تھی۔ تم اس جگہ سے یہ سبق سیکھو۔ جہاں غفلت کی صحبت ہو ۔ اس میں مت بیٹھو۔ ایک بزرگ نے مجھے کہا کہ تم کو کئی دن سے نہیں دیکھا۔ میں نے کہا ہاں سستی ہو گئی ۔ فرمایا تم نے قصاب کی دوکان نہیں دیکھی ؟ آپ کا مطلب یہ تھا کہ دیکھو قصاب جب دو چھریاں آپس میں رگڑتا ہے تو تیز ہو جاتی ہیں ۔ اسی طرح صحبت صادقین کا فائدہ ہے۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۰ مؤرخہ ۲۹ جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۷۹ ) ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ - ہجرت نہیں ہوتی۔ ( تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۴۹)