حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 209
حقائق الفرقان ۲۰۹ سُورَةُ النِّسَاء جنگوں کی فلاسفی سے تم آگاہ ہو کہ دین، آبرو، جان اور مال کی حفاظت کے واسطے اس قسم کی ضرورت آپڑتی ہے کہ جنگ کی جاوے اور بہت سی بیش قیمت جانوں کو بچانے کے واسطے کچھ جانیں قربان کر دی جاتی ہیں ۔ موت سے انسان بیچ سکتا تو ہے نہیں پھر ذلت کی موت کیوں اختیار کی جاوے۔ ہر ایک قسم کا سکھ اور نیکی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے۔ اس کے سوا کسی دوسرے میں یہ طاقت نہیں ہے کہ سکھ دے سکے۔ خدا تعالیٰ رحمن ہے اس نے سکھ کے سامان ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان، ناک وغیرہ سب اعضاء اور آرام دہ اشیاء اپنے فضل سے عطا کئے ہیں ۔ قسم قسم کے لباس ، پھل، پھول، عقل اور قوت ادرا کی وغیرہ یہ سب سکھ کی چیزیں اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے حاصل ہوتی ہیں لیکن دکھ انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے۔ جب وہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر نہیں کرتا اور ان کو بے محل استعمال کرتا ہے تو دکھ پاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات ہرگز ہرگز ظالم نہیں ہے۔ قال محال مِنْ عِنْدِ اللہ کے یہ معنے ہیں کہ گناہوں کی سزا اور نیکیوں کا ثواب اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ دکھ کا سر چشمہ کیوں اللہ تعالیٰ کو کہا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ انسان کی بدکاری کی وجہ سے اس کا دکھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لئے دکھ کو بھی اُس کی طرف منسوب کیا گیا۔ مثلاً ایک قیدی جو جیل خانہ میں جاتا ہے تو گورنمنٹ کے ہی حکم سے جاتا ہے اور گورنمنٹ اسے اس کے بد اعمال کی پاداش میں جیل خانہ بھیجتی ہے۔ اسی طرح بڑے بڑے منصب جو لوگوں کو ملتے ہیں وہ بھی گورنمنٹ سے ہی ملتے ہیں۔ غرضیکہ گورنمنٹ ہی کی عنایات سے ایک شخص مورد انعام ہوتا ہے اور گورنمنٹ کی ہی خلاف ورزی سے مور دعذاب ہوتا ہے۔ لیکن مورد عذاب ہونے کی ایک وجہ ہوتی ہے جو کہ نافرمانی ہے اور مورد انعام ہونے کی بہت راہیں ہیں۔ کبھی انسان اپنی لیاقت سے۔ کبھی ذاتی اور خاندانی وجاہت سے۔ کبھی حسن خدمات سے اور کبھی کسی مقرب کی سفارش سے مور دانعام ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر میں چوروں یا ڈاکوؤں کے گھر پیدا ہوتا۔ تو باوجود اس کوشش اور محنت کے جو میں نے آج تک کی ہے۔ اس موجودہ ترقی پر نہ پہنچ سکتا۔ تم معلوم کر سکتے ہو کہ کس قدر رکاوٹیں درمیان میں تھیں ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہی تھا کہ اس نے اس مقام تک پہنچایا ہوا ہے۔