حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 210 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 210

حقائق الفرقان ۲۱۰ سُورَةُ النِّسَاء وَ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا ۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی دو طرح سے ہوتی ہے۔ ایک تو اس طرح کہ وقت پر ان تمام پیشگوئیوں کو پورا کر دیا جو کہ آنحضرت صلعم کے دعاوی اور زمانہ کے متعلق تھیں ۔ میں ۔ دوسرے اس طرح سے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلعم کی نصرت کر کے اور آپ کے دشمنوں کو ہلاک کر کے اور آپ کی کامیابی میں ہر ایک روک کو دور کر کے گواہی دے دی کہ یہ ہمارا بھیجا ہوا ہے۔ دونوں فریق اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق تھے اور دونوں کے اعمال سے وہ خوب واقف تھا جو سچا تھا آخر کار اللہ تعالیٰ نے اسے فتح دے دی اور نیز اچھے لوگوں کو اپنے مکالمات سے بھی آگاہ کیا کہ یہ رسول اللہ اور راست باز ہے۔ جیسے فرمایا ۔ إِذْ أَوْ حَيْثُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ أَمِنُو إِنِّي وَبِرَسُولِي (المائدة: 11) البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴۹) ( مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللهِ۔ الخ) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سکھوں اور دکھوں کا دینے والا حقیقت میں تو اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لئے کہ اصل خالق اور پیدا کرنے والا اسباب رنج و راحت کا وہی ہے۔ اور یہی نہایت سچی بات ہے کہ سکھ سب اللہ تعالیٰ ہی کی عنایت سے ملتے ہیں اور دکھ تمہارے اپنے ہی سبب سے تم پر آتے ہیں ۔ اس قدر بھی اس آیت سے نکل سکتا ہے کہ سکھ ابتداء بھی جناب النبی سے آسکتے ہیں ۔ کیونکہ اس کی صفت رحمن ہے۔ البتہ یہ نئی بات ہے اور سچا اور واقعی سائنس ہے جو اس آیت سے نکلتی ہے۔ تمام سکھ ابتداء بھی جناب الہی کی طرف سے آتے ہیں۔ حقیقی چشمہ ان کا وہی اور خلق اشیاء و اسباب اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے مگر یہ سچا اور روحانی علم بجائے خود ایک مستقل مضمون چاہتا ہے۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۹۴) - مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا - ترجمہ۔ جس نے رسول کا حکم مانا اور اس کی اطاعت کی بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے منہ پھیرا اور رسول کی اطاعت نہ کی ( تو وہ خود خراب ہوا) کچھ ہم نے تجھ کو ان پر پاسبان بنا کر نہیں بھیجا۔ ا جب میں نے حواریوں کے طرف وحی کی کہ مجھے مانو اور میرے رسول کو ۔