حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 208 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 208

حقائق الفرقان ۲۰۸ سُورَةُ النِّسَاء کے حکم سے ہی آتی ہے بعض اوقات اللہ معاف بھی کر دیتا ہے پس دکھ سکھ پہنچانے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ باقی اس کے ذرائع ہیں۔ آرام تو فضل اللہ سے جس کی جاذب نیک عملی ہے اور دکھ انسان کی اپنی بد عملی کی پاداش ہے۔ بعض دیگر مصالحہ الہیہ بھی ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۰ مؤرخہ ۲۹ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۸) تم جہاں ہو گے تم کو موت گھیر لے گی اگر چہ تم مستحکم برجوں میں ہو گے اور اگر انہیں کوئی سکھ مل م جائے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی دکھ پہنچے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے۔ تو کہہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ پس کیا ہوا ان لوگوں کو کہ بات کو نہیں سمجھتے ۔ جو سکھ ( فائدہ ) تجھے پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو دکھ پہنچے وہ تیری ہی طرف سے ہے اور ہم نے تجھے لوگوں کے لئے رسول بھیجا ہے۔ اس آیت میں حقیقت واقعیہ اور سچائی کا کامل اظہار جناب الہی نے فرمایا ہے جو لوگ دینی اور قومی لڑائیوں سے سستی اور غفلت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ چند روزہ زندگی تو گزار نے دو ۔ ان کو کہا کہ آخر تم نے مرنا ہے۔ پھر ان کی نافہمی کا اظہار فرمایا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں اگر ان کو سکھ پہنچے تو بول اٹھتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے مل گیا اور اگر انہیں دکھ پہنچے تو پکار اٹھتے ہیں کہ یہ دکھ تیرے ( نبی کریم سے ) سبب سے پہنچا۔ تو کہہ دے کہ دکھ اور سکھ تو اللہ تعالیٰ سے پہنچتا ہے۔ یہ نادان بات کی تہہ کو نہیں پہنچتے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۹۳، ۹۴) جہاں تم ہو تم کو موت پالے گی ۔ خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ اگر انکو کچھ سکھ اور نیکی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور اگر دکھ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے تو کہہ دے کہ سکھ اور دکھ سب ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ وہ ہی بھیجتا ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ بات کو نہیں سمجھتے۔ بات یہ ہے کہ جو سکھ اور نیکی پہنچتی ہے۔ اس کا سر چشمہ تو اللہ تعالیٰ کی پاک ذات ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے اس کا سر چشمہ تیرا اپنا ہی نفس ہے اور ہم نے تو تم کو لوگوں کی طرف پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اس بات پر خدا کی گواہی کافی ہے۔