حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 10
حقائق الفرقان ۱۰ سُورَةُ آل عِمْرَان اسے کھولتا ہے کہ اے کفار تم عنقریب مغلوب ہو گے اور یہ خطاب ہے مدینہ کے بے ایمانوں سے۔ مدینہ میں میں نے اس لئے کہا کہ بدر کا واقعہ اس آیت کے نزول سے پہلے ہو چکا ہے۔ چنانچہ آگے آتا ہے۔ وَتُحْشَرُونَ إِلى جَهَنَّمَ - قیامت کے متعلق قرآن مجید اربعہ متناسبہ سے کام لیتا ہے مثلاً کوئی چیز ایک روپیہ کی سیر ہے تو چار روپیہ کی چار سیر ہوگی ۔ جو نسبت پہلے کو دوسرے سے ہے وہی تیسرے کو چوتھے سے ہے۔ وہاں مدینہ میں سات قو میں مسلمانوں کی دشمن تھیں۔ بنو قینقاع، بنو قریظہ ، بنو نضیر ، اوس ، خزرج میں باہمی عداوت تھی ۔ عیسائی ابوعا مر کے ماتحت نواحی مدینہ میں غطفان اور مصر کا قبیلہ ۔ مکہ کے شریر لوگ جو تجارت کے بہانے سے کبھی مدینہ کی مغرب کی طرف نکل جاتے۔ کبھی مشرق کی طرف سے اور قوموں کو مسلمانوں کے خلاف اُکساتے پھرتے ۔ تجارت کے ذریعے ایسی پولیٹیکل چالیں چلی جاتی ہیں ۔ یہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تھے انکی حالت کا نقشہ اور پھر ان کا انجام اس آیت میں ہے وظنوا أَنَّهُمْ مَانِعَتُهُمْ حُصُونَهُمْ مِنَ اللَّهِ فَأَتْهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا (الحشر: ۳) اب دیکھئے یہاں پیشگوئیاں دو ہیں سَتُغْلَبُونَ اور تُحْشَرُونَ إِلى جَهَنَّمَ - جب تُغْلَبُوْنَ دکھا دیا تو تُحْشَرُوْنَ ضرور ہوگا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مؤرخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۴) ۱۴- قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ أخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأَى الْعَيْنِ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ - ترجمہ تحقیق ظاہر ہو چکی تمہارے لئے نشانی ان دو فوجوں میں جو آپس میں گتھ گئیں ایک فوج تو لڑتی تھی اللہ کی راہ میں اور دوسری کا فر تھی مسلمان اپنے مقابل کفار کو دو چند دیکھتے تھے آنکھوں دیکھتے اور اللہ قوت دیتا ہے اپنی مدد کی جس کو چاہتا ہے۔ بے شک اس میں عبرت کی جگہ ہے سمجھ دار آنکھ والوں کے لئے ۔ لے اور وہ یہ گمان کرتے تھے کہ ان کو بچالیں گے ان کے قلعے اللہ کے ہاتھ سے۔ تو ان پر اللہ ایسی جگہ سے آ گیا ( یعنی عذاب الہی ) جہاں ان کا گمان بھی نہ تھا۔ ( ناشر )