حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 178 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 178

حقائق الفرقان ۱۷۸ سُورَةُ النِّسَاء حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ہم تو بہ سے معاف کرتے ہیں۔ ایک جگہ فرمایا ہے کہ ہم گناہ معاف کرتے ہیں۔ اصل مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو بدی، بدکاری، شرارت، اللہ کی نافرمانی ہے یہ سب گناہ پہلے ادنی سیڑھی سے شروع ہوتے ہیں پھر وہ اس میں ترقی کرتا جاتا ہے اس کی آخری حالت کبیرہ ہے۔ مثال یہ ہے کہ کسی نے ایک عورت کو بدنظری سے ایک دفعہ دیکھا پھر مکرر ، سہ کرر دیکھا۔ لبھا۔ پھر کسی دوست سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ پہلے آنکھ کا گناہ تھا اب زبان کا ا ہو گیا ، ، جواب سنے سننے سے کان کا ہو گیا۔ پھر پوچھتا ہے کہ یہ کس طرح ملتی ہے ؟ وہ کوئی عورت بتائے گا۔ پھر ادھر چلے گا یہ پاؤں کا گناہ ہو گیا۔ اس کو ماں بہن بنا کر روکے رکھے گا۔ اب ہاتھ کا اور مال کا گناہ ہو گیا۔ اسی طرح بڑھتا جاوے گا ۔ اگر اب یہ کامیاب ہوگا اور بدکاری کے لیے تیار ہو گیا تو پھر اس کے آخری فیصلہ کا وقت ہے یہ آخری فیصلہ کبیرہ ہوگا ۔ اگر اللہ کریم اس پر رحم کرے اور وہ خدا کا خوف کر کے قبل از ارتکاب ہٹ جاوے تو وہ جو جو ابتدائی ابتدائی کام کیا گیا تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ (النساء: ۳۲) وہ ہم معاف کر دیں گے۔ اس دعوے کی دلیل میں ایک واقعہ حدیث میں مذکور ہے کہ ایک شخص اپنی چچا زاد ہمشیرہ پر عاشق ہو گیا تھا اور سو پونڈ اس کو دیئے ۔ جب بدی پر تیار ہوئے تو عورت نے کہا کہ اگر تم اب رب سے ڈر جاؤ تو ہم بدی سے بچ سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ باز رہے اور اللہ نے ان کے پچھلے ابتدائی گناہوں سے درگزر فرمایا۔ اب اس طرح سے وہ کبیرہ صغیرہ کا جھگڑا ہی نہ رہا۔ رہی وہ بات کہ جس نے کبیرہ کیا ہے اس کی پہلی کارروائیاں معاف نہیں ہوسکتیں کیونکہ وہ کبیرہ سے ٹلا نہیں ۔ سو اس آیت میں صرف یہی صورت مذکور ہے جو بیان کی گئی ۔ البتہ عام کبیروں اور صغیروں کا فیصلہ یہ ہے۔ اِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَ يَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يشاء (النساء : ۱۱۷) ( ترجمہ ) تحقیق اللہ نہیں بخشا اس بات کو کہ شرک کیا جائے ساتھ اس کے اور بخشے گا ما سوائے اس کے جس کو چاہے گا ۔ اور جگہ فرمایا۔ وَمَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللهِ مَتَابًا (الفرقان: ۷۲) ( ترجمہ ) اور جو شخص تو بہ کرے اور عمل اچھے کرے پس تحقیق وہ رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف پورا پورا۔ لے ہم تم سے دور کر دیں گے تمہارے گناہ۔ (ناشر)