حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 179 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 179

حقائق الفرقان ۱۷۹ سُورَةُ النِّسَاء ایک میرے پیر نے گناہوں سے بچنے کا قاعدہ بتایا تھا۔ میں اس کا عمل کر رہا تھا ایک دفعہ دو پہر کو سو گیا اٹھا تو جماعت ہو گئی تھی۔ میرا خون خشک ہو گیا کہ گویا میں ہلاک ہو گیا ہوں ۔ مدینہ کے ایک دروازہ پر لکھا ہے کہ یعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الزمر: ۵۴) جب میں نے یہ آیت دیکھی تو اس سے میرے دل میں اتنا جوش کم ہو گیا کہ مسجد میں داخل ہو سکا ۔ منبر اور آنحضرت کے گھر کے درمیان نماز شروع کر دی۔ منبر اور حضرت صلعم کے گھر کے درمیان کا ٹکڑہ بہشتی ہے میں نے دعا مانگی کہ الہی اگر یہ گناہ ترک جماعت کا معاف کر دیا جائے تو مجھے دلیل بتائی جائے۔ ظہر کی نماز تھی رکوع میں ہی مجھے یہ آیت بتائی گئی وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَدْعُونَ (حم السجدة : ٣٢) اور یہ سمجھایا گیا کہ تمہارا گناہ بخشا گیا ہے۔ ( بدر جلد ۱۳ نمبر ۳ مورخه ۲۰ مارچ ۱۹۱۳ ء صفحه ۱۱، ۱۲) إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَابِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ ۔ ایک غلطی سے دوسری۔ دوسری سے تیسری پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح پھر گناہ کی انتہا ہو جاتی ہے۔ اس انتہا کو گناہ کبیرہ کہتے ہیں ۔ تكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ ۔ اگر کوئی درمیان میں اس بدی سے علیحدہ ہو جاوے تو ہم اسے عزت کے مقام پر پہنچائیں گے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۹ مؤرخہ ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۷۵) كبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ - ہر نا فرمانی کا ابتداء صغیرہ اور انتہاء کبیرہ کہلاتا ہے۔ تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۴۸) جن کبائر گناہوں پر ابدی سزا کا ہونا بیان ہوا وہ بیان بالکل راست ہے ۔ وہ کبائر ایسے ہیں کہ ابدی سزا میں پھنسا ئیں ۔ الا خدا پر ایمان لانا اور اس کی توحید پر ثابت قدم ہونا اور جس بلائے بد شرک میں مشرک پھنس کر تباہ ہوئے اُس بلا سے الگ ہو جانا۔ بلکہ صرف رحم بھی ایسے فضل کے لائق کر دیتا ہے کہ بڑے گناہ کے مرتکب کو وہ فضل ابدی جہنم سے نکال لاتا ہے اور اس ابدی سزا کے موجب پر یہ فضل نجات کا موجب غالب آ جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص نے تھوڑی سی گرم چیز کھالی وہ لے اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر خطا کر بیٹھے ہو اپنے ہاتھ سے اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو ۔ بے شک اللہ ہو۔ ڈھانپتا ہے تمام گناہوں کو ۔ ۲؎ اور تمہارے لئے وہاں موجود ہوگا جو کچھ تم مانگو گے۔ ( ناشر )