حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 177
حقائق الفرقان ۱۷۷ سُورَةُ النِّسَاء خرچ کرا کے مجھے ساتھ لے گیا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ کھانے کا سوٹ ،سونے کا سوٹ، فٹبال کا سوٹ ،سیر کا سوٹ ، ملاقات کا سوٹ ، تین دن تک مولوی صاحب بیمار بن کر پڑے رہے۔ آخر جب رخصت کا وقت آیا تو پھر چند لمحہ کے لئے اس لباس نے کام دیا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۹ مؤرخہ ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۷۵) ٣٠ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمُ بَيْنَكُمُ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا - ترجمہ ۔ اے ایماندارو! ایک دوسرے کا مال آپس میں نہ کھا جایا کرونا جائز طور پر مگر تمہاری آپس کی رضا مندی سے خرید وفروخت ہو اور خود کشی نہ کرو بے شک اللہ سچی کوشش کا تمہیں بدلا دینے والا ہے۔ تفسير - عن تراض ۔ دھو کہ میں تراضی نہیں ہو سکتی ۔ ۳۲ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ - اَنفس - اہل ملت جنس انسانی ۔ اکل بالباطل بھی قتل انفس ہے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۸) ٣٢ - إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَابِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمُ مد خَلَّا كَرِيمًا - ترجمہ ۔ تم بڑے گناہوں سے ایک جانب رہو گے جن کی تم کو ممانعت کی گئی ہے تو ہم تم سے دور کر دیں گے تمہارے گناہ اور تم کو عزت دار مقام میں داخل کریں گے۔ تفسیر یہ ایک مسئلہ ہے جس میں جھگڑے کرتے تیرہ سو برس گزر گئے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو ہی نہیں سکتا۔ پہلے جھگڑا یہ کیا ہے کہ کبیرہ گناہ کس کو کہتے ہیں ۔ پھر اگر کبیرہ گناہ کا فیصلہ ہو جاوے تو پھر یہ کہتے ہیں کہ یہ بخشا جاوے گا یا نہیں ۔ پھر یہ کہ کبیرہ گناہ والا کافر کے برابر ہوتا ہے یا نہیں ۔ یہ بحث صحابہ کے وقت ہی شریر لوگوں نے چھیڑ دی تھی۔ مجھے اللہ کے فضل سے مذہب کے ساتھ ایک خاص تعلق دیا یا گیا ہے۔ ہم آپ کو سناتے ہیں اللہ نے ہم پر کھول دیا ہے۔ ان لوگوں نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ اگر تم اجتناب کرو کبیرہ گناہوں سے تب ہم معاف کر دیں گے دوسرے گناہ،