حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 175 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 175

حقائق الفرقان ۱۷۵ سُورَةُ النِّسَاء غرضیکہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے اور مخلوق پر شفقت کرنے کے لیے کوئی قانون نہیں جو قرآن میں اتم طور پر اس کا بیان نہ ہو۔ میں تو بڑھا ہو گیا ہوں اور سب کو پوچھتا ہی رہا ہوں مگر کسی نے بیان نہیں کیا ۔ اب تم لوگوں کا کام ہے تم کسی سے پوچھو۔ ایک شخص عزیز مرزا نے ایک مضمون لکھا تھا کہ میں نے بدھ کی کتاب میں ایک فقرہ دیکھا ہے جو کسی مذہب میں نہیں ۔ ہمارے میر محمد اسحاق کو توفیق ملی، انہوں نے اس کا ایسا لطیف جواب دیا کہ عزیز مرزا کو ماننا پڑا کہ میں نے غلطی کی ہے۔ میں نے میر صاحب کے لیے بہت دعا کی۔ ایک دفعہ ایک شخص نے میرے سامنے کہا کہ خدا کی ایک صفت ہم ہندوؤں میں ہے جو قرآن میں نہیں ہے۔ میں نے کہا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ ہم خدا کو باپ کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا یہ بڑی بات ہے، باپ کا تعلق بیٹے سے پچیس منٹ سے زیادہ نہ منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا جو اوسط مدت امساک کی ہے اور اس عرصہ میں اس کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ میں کیا دے رہا ہوں ، لڑکا یا لڑکی اور وہ اس بات سے بھی بے خبر ہوتا ہے کہ اچھا ہوگا یا برا۔ اس کے بعد پھر اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کی پرورش کون کر رہا ہے۔ کیا باپ کے تعلقات ربّ سے زیادہ ہو سکتے ہیں؟ رب کے ہم ہر آن میں محتاج ہیں۔ وہ ہر وقت ہماری پرورش کرتا ہے۔ کھانا، پینا، روشنی ، ہوا، آگ، سب اسی کا ہے۔ اندر سے نکلنے والی کار بن بھی اسی کی ہے۔ یہ سب رب کا فضل ہے نہ اب کا۔ مولوی عبدالکریم نے ایک بحث میں کیا لطیفہ فرمایا ہے کہ برہمو خدا کو ماں کہتے ہیں ، آریہ باپ کہتے ہیں کیا اچھا ہو یہ پہلے تم کو قرآن کا پورا علم ہو۔ (نور) دونوں آپس میں بیاہ کر لیں۔ یہ میں نے اس واسطے کہا ہے کہ تب دوسروں سے ایسی تحدی کرو جب الحکم جلد ۱۶ نمبر ۳۶ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳) سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ ۔ وہ راہیں سکھائیں جن کے ذریعے وہ مقرب بارگاہ صمدی ہوئے ہیں ۔ يَتُوبَ عَلَيْكُمُ ۔ اللہ تم پر متوجہ ہے۔ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ - انبیاء، اولیاء، علماء اور حکماء کی باتیں بھی اسی لئے مانی جاتی ہیں کہ ان میں علم وحکمت ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۹۳ مؤرخہ ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۵)