حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 7
حقائق الفرقان ۷ سُورَةُ آل عِمْرَان محکموں کو معا مان لیتے اور متشابہ کا انکار نہیں کرتے بلکہ كُل مِنْ عِنْدِ رَبَّنَا کہتے ہیں ۔ یعنی دونوں پروردگار کی طرف سے مانتے ہیں ۔ پس وہ متشابہ کے ایسے معنی نہیں کرتے جو محکم کے خلاف ہوں بلکہ ہر جگہ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبَّنَا کا اصول پیش نظر رکھتے ہیں۔ کوئی آیت ہو اس کے خواہ کتنے معنے ہوں مگر ایسے معنے نہ کرنے چاہئیں جو محکم کے خلاف ہوں ۔ دوسرا طریق دعا کا ہے وہ یوں بتایا کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا یعنی اے ہمارے رب ! ہمیں کبھی سے بچالے۔ یعنی قرآن کے معنے اپنی خواہشوں کے مطابق نہ کریں۔ وَ هَبْ لَنَا مِن لَّدُنْكَ رَحْمَةً - اپنی خاص رحمت سے ممتاز کر ۔ وہ رحمت کیا ہے۔ الرحمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ (الرحمن: ۲، ۳) ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۲۷ رمئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۳، ۵۴) ايت محکمت - ہر شخص کے لئے کام کا کوئی حصہ محکم ہے جو اچھی طرح سمجھ آ جاتا ہے اور کچھ حصہ متشابہ جس میں کچھ شبہات ہیں ۔ پس اس متشابہ کو محکم کے تابع کرے اور متشابہ کے ایسے معنی کرے جو محکم کے خلاف نہ ہوں (۱) وَوَجَدَكَ ضَالًا متشابہ ہے تو مَا ضَلَّ اسے حل کر دے گی۔ کلام الہی سمجھنے کا ایک طریق یہ ہے۔ دوسرا طریق دعا ہے۔ تیسرا قیامت سے ڈرنا۔ ابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ اپنے مطلب کی حقیقت مراد ہے اس لئے ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ کی طرح یہ مقصد بھی برا ہے۔ الا الله - یعنی اس کی اصل حقیقت دوسری آیات میں موجود ہے اور وہ آیات اللہ ہی کی ہیں اس لئے اللہ ہی کے پاس حقیقت فرمائی۔ تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۵) ١٠ - رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ ۔ ترجمہ۔ اے ہمارے رب بے شک تو سب لوگوں کو اکٹھا کرنے والا ہے ایک دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ہے بے شک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اے رحمن نے ۔ قرآن سکھایا ہے۔ (ناشر)