حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 6
حقائق الفرقان سُورَةُ آل عِمْرَان بارے میں کئی فریق ہو گئے ۔ کسی نے کہا کہ یہ محکم ہے کسی نے کہا کہ یہ متشابہ ہے کوئی تنزیہ کی آیتوں پر ایسا جما بیٹھا ہے کہ خدا کو محض لا شیئے بنا دیا۔ علت العلل تو کہہ دیا۔ دوسری طرف تشبیہ والوں نے جو زورد یا تو خدا تعالیٰ کا ایک جسم بنا دیا۔ میں نے ایک بڑے عالم سے پوچھا تھا کہ محکم و متشابہ آیت میں امتیاز کیا ہے تو اس نے کہا کہ کچھ گڑ بڑ ہی ہے جس سے مجھے بہت صدمہ ہوا ۔ میں تو اس کو بہت سہل سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک ہر شخص کے لئے کوئی حصہ کسی متکلم کے کلام کا محکم ہوتا ہے یعنی جو خوب طور سے سمجھ میں آ جاتا ہے اور کوئی حصہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے معنے سمجھنے میں دقتیں پیش آتی ہیں اور بوجہ اس کے مجمل رکھنے کے کئی معنے ہو سکتے ہیں۔ ہر شخص پر یہ حالت گزرتی ہے۔ اللہ نے اس کے متعلق یہ راہ دکھائی ہے کہ جو آیات ایسی ہیں کہ جن کی خوب سمجھ آ جائے اور تجربہ و عقل و مشاہدہ اس کے خلاف نہ ہو وہ تو محکم سمجھ لو۔ پھر وہ آیات جن کے معنے سمجھ میں نہیں آئے ان کے معنے ایسے نہ کرے جوان محکم آیات کے خلاف ہوں ۔ ہر متکلم جس کے ساتھ مجھے وابستگی ہے وہ کون ؟ محد ثین ،صوفیاء کرام ،حکماء عظام، طبیعات کے ماہر ان سب سے مجھے بہت محبت ہے۔ ان کے کلمات کو جب میں پڑھتا ہوں تو بعض تو فوراً سمجھ میں آجاتے ہیں اور بعض وقت کلام کے سمجھنے میں دقت ہوتی ہے اسے میں متشابہ سمجھتا ہوں ۔ پھر جو محکمات ہیں ان کو کتاب کی جڑ سمجھ کر مصنف کے اصلی منشا کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کو حل کر لیتا ہوں ۔ کئی ایسے کلام ہیں جو ایک وقت میرے لئے متشابہ تھے پھر دوسرے وقت محکم نظر آئے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ بعض آیات خوب سمجھ میں آجاتی ہیں اور بعض کے معنے جلد نہیں کھلتے ۔ اس کے لئے ایک گر بتایا ہے۔ اب فرماتا ہے کہ جن لوگوں کے دل میں کبھی ہے وہ انہی متشابہات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللہ اللہ کے سوا اس کی حقیقت کس کو معلوم ہے۔ یہاں وقف ہے۔ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ ۔ اب فرماتا ہے جن کو یہ خواہش ہے کہ وہ راسخ فی العلم ہو جاویں وہ ے اور جولوگ پختہ ہیں علم میں ۔ (ال عمران : ۸)