حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 159
حقائق الفرقان ۱۵۹ سُورَةُ النِّسَاء لوگو! تقوی اختیار کرو۔ اپنے رب سے ڈرو۔ وہ رب جس نے تم کو ایک جی سے بنایا ہے اور اسی جنس سے تمہاری بیوی بنائی اور پھر دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں۔ دو خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا سے یہ مراد ہے کہ اسی جنس کی بیوی بنائی۔ اس آیت میں اتَّقُوا رَبَّكُم جو فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کی اصل غرض تقوی ہونی چاہیے اور قرآن مجید سے یہی بات ثابت ہے۔ نکاح تو اس لئے ہے کہ انسان احصان اور عفت کے برکات کو حاصل کرے مگر عام طور پر لوگ اس غرض کو مد نظر نہیں رکھتے بلکہ وہ دولتمندی حُسن و جمال اور جاہ و جلال کو دیکھتے ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ ۔ بہت سے لوگ خط و خال میں محو ہوتے ہیں جن میں جلد تر تغیر واقع ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کے قول کے موافق تو سات سال کے بعد وہ گوشت پوست ہی نہیں رہتا مگر عام طور پر لوگ جانتے ہیں کہ عمر اور حوادث کے ماتحت خط و خال میں تغیر ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے یہ ایسی چیز نہیں جس پر انسان محو ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کی اصل غرض تقوی بیان فرمائی ہے۔ دیندار ماں باپ کی اولاد دیندار ہو، پس تقومی کرو اور رحم کے فرائض کو پورا کرو۔ میں تمہارے لئے نصیحتیں کرتا ہوں ۔ یہ تعلق بڑی ذمہ داری کا تعلق ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے نکاح جو اغراض محب پر ہوتے ہیں اُن سے جو اولاد ہوتی ہے وہ ایسی نہیں ہوتی جو اس کی روح اور زندگی کو بہشت کر کے دکھائے۔ ان ساری خوشیوں کے حصول کی جڑ تقوی ہے اور تقوی کے لئے یہ گر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رقیب ہونے پر ایمان ہو۔ چنانچہ فرمایا۔ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا - جب تم یہ یاد رکھو گے کہ اللہ تعالی تمہارے حال کا نگران ہے۔ تو ہر قسم کی بے حیائی اور بدکاری کی راہ سے جو تقوی سے دور پھینک دیتی ہے بچو گے ۔ ( بدر جلدے نمبر ۹ مورخه ۵ مارچ ۱۹۰۸ صفحہ ۶) وَأتُوا الْيَتَنَى أَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا - ترجمہ ۔ اور یتیموں کے مال ان کے حوالے کرو اور مال طبیب کے بدلے مال حرام نہ لو اور ان کے مال ہے ۔ تم دین دار عورت کی جستجو کرو۔