حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 158
حقائق الفرقان ۱۵۸ سُورَةُ النِّسَاء بچ جائے گا۔ غرض تقوای ایسی نعمت ہے کہ متقی ذریت طیبہ بھی پالیتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۱ مؤرخہ ۷ ارنومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۳) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقوی اختیار کرو اور خدا تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو کہ اس نے آدم کو پیدا کیا اور اس سے بہت مخلوق پھیلائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام والبرکات پر اس کا خاص فضل ہوا۔ اور ابراہیم کو اس قدر اولا د دی گئی کہ اس کی قوم آج تک گنی نہیں جاتی اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ خدا نے ہمارے امام کو بھی آدم کہا ہے اور بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا کی آیت ظاہر کرتی ہے کہ اس آدم کی اولا د بھی دنیا میں اسی طرح پھیلنے والی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ بڑے خوش قسمت وہ لوگ ہیں جن کے تعلقات اس آدم کے ساتھ پیدا ہوں ۔ کیونکہ اس کی اولاد میں اس قسم کے رجال اور نساء پیدا ہونے والے ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص طور پر منتخب ہو کر اس کے مکالمات سے مشرف ہوں گے۔ مبارک ہیں وہ لوگ ۔ مگر یہ باتیں بھی پھر تقوی سے حاصل ہو سکتی ہیں اور تقوی ہی کے ذریعہ سے فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔ کیونکہ خدا کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔ مجھے سب سے بڑھ کر جوش اس بات کا ہے کہ میں مسیح موعود کی بیوی، بچوں ۔ متعلقین اور قادیان میں رہنے والوں کے واسطے دعائیں کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کو رِجَالًا كَثِيرًا اور تقوی اللہ والے کے مصداق بنائے ۔ ( بدر جلد ۲ نمبر ۵۰ مورخه ۱۳ دسمبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۹) وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۔ شادی کے بعد لڑکی کے تمام رشتہ دار تمہارے اور تمہارے رشتہ دارلڑکی کے ہو گئے۔ البدر کلام امیر حصہ دوم مؤرخہ ۱۵ دسمبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۹۰) يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّنْ نَفْسٍ وَاحِدَہ ۔ یہ ایک سورۃ کا ابتداء ہے۔ اس سورۃ میں معاشرت کے اصولوں اور میاں بیوی کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ آیتیں نکاح کے خطبوں میں پڑھی جاتی ہیں اور غرض یہی ہوتی ہے کہ تا ان حقوق کو مد نظر رکھا جاوے۔ اس سورۃ کو اللہ تعالیٰ نے یا يُّهَا النَّاسُ سے شروع کیا ہے۔ النَّاسُ جو انس سے تعلق رکھتا ہے تو میاں بیوی کا تعلق اور نکاح کا تعلق بھی ایک انس ہی کو چاہتا ہے تا کہ دو اجنبی وجود متحد فی الا رادۃ ہو جائیں۔ غرض فرمایا۔